Wednesday, June 17, 2026 | 30 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا، شیو سینا (یو بی ٹی) کے 6 ارکان پارلیمنٹ شندے دھڑے میں شامل..؟

ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا، شیو سینا (یو بی ٹی) کے 6 ارکان پارلیمنٹ شندے دھڑے میں شامل..؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 17, 2026 IST

ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا، شیو سینا (یو بی ٹی) کے 6 ارکان پارلیمنٹ  شندے دھڑے میں شامل..؟
مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چھ لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے کی قیادت والی شیو سینا کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے دھڑے کو بڑا سیاسی دھچکا لگ سکتا ہے۔
 
جن ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ان میں سنجے جادھو، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل اشتیکر، اومراجے نمبالکر، بھاؤ صاحب وکچورے اور سنجے دینا پاٹل کے نام شامل ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
 
ادھر شیو سینا (یو بی ٹی) میں ممکنہ بغاوت کی خبروں کے درمیان پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے باغی ارکان پارلیمنٹ کو سخت پیغام دیا ہے۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکن پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعت میں جانا چاہتا ہے تو اسے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
 
سنجے راوت نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے کارکنوں نے ان ارکان پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات محنت کی تھی، اس لیے پارٹی بدلنے سے پہلے انہیں عوام کے سامنے جا کر دوبارہ مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔
 
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 2022 کی طرح شیو سینا کو دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف مہاراشٹر کے عوام بلکہ پارٹی کے کارکن اور اراکین اسمبلی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے نو لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ میں سے صرف تین، اروند ساونت، انیل دیسائی اور راجا بھاؤ واجے، سنجے راوت کی پریس کانفرنس میں موجود تھے، جس سے سیاسی قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔
 
تاہم سنجے راوت نے یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی کے پاس ابھی تک کسی رکن پارلیمنٹ کے باضابطہ طور پر پارٹی چھوڑنے کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر کے ارکان پارلیمنٹ کو 15 کروڑ روپے میں خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال پر اب سب کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ اگر شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ واقعی شندے دھڑے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ادھو ٹھاکرے کے لیے ایک اور بڑا سیاسی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔