Wednesday, June 17, 2026 | 30 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یو سی سی بل ہوگا منظور: سی ایم یادو

مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یو سی سی بل ہوگا منظور: سی ایم یادو

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 17, 2026 IST

مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یو سی سی بل ہوگا منظور: سی ایم یادو
مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو نافذ کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، اور حکومت نے عام لوگوں، سماجی،مذہبی تنظیموں، اور قانونی ماہرین سے تجاویز طلب کی ہیں۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ یو سی سی بل اسمبلی کے  آنے والے مانسون اجلاس میں منظور کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔

یوسی سی بل پاس کرایا جائے گا

سی ایم موہن یادو بدھ 17 جون کو اسمبلی پہنچے اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کیلاش ناتھ کاٹجو کے یوم پیدائش پر پھول چڑھانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سی ایم نے کہا کہ اگر بابا مہاکال چاہیں تو اس اسمبلی اجلاس میں ہی یو سی سی بل پاس کرایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل قانون ساز اسمبلی کے اسی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید برآں حکومت کئی اہم اور عصری مسائل کو بھی اجلاس میں لا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا مہاکال کے آشیرواد سے یو سی سی بل اسی سیشن میں منظور کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان نے ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ حکومت یو سی سی کے ساتھ اس سیشن میں کئی دیگر اہم بلوں کو بھی پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ایم پی میں یو سی سی:حکومت کا کیا منصوبہ ہے؟

مدھیہ پردیش حکومت یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو لاگو کرنے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے حالیہ بیانات اور انتظامی تیاریوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اسے جلد از جلد لاگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کا بنیادی منصوبہ موجودہ اسمبلی اجلاس میں یو سی سی بل کو متعارف کروانا اور پاس کرنا ہے۔ سی ایم موہن یادو کے اشارے کے مطابق، یو سی سی کا حتمی مسودہ جون کے آخر تک تیار ہونے کی امید ہے۔ مسودہ تیار ہونے کے فوراً بعد، حکومت قانون کو نافذ کرنے کے لیے آگے بڑھے گی، یعنی اسے اسمبلی سے پاس کروا کر اس پر عمل درآمد کرائے گی۔

 سابق جج کی سربراہی میں مسودہ کی تیاری 

سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قانونی پیچیدگیوں اور ریاست کے سماجی تانے بانے کو مدنظر رکھتے ہوئے یو سی سی کا مسودہ تیار کر رہی ہے۔ حکومت کا مقصد براہ راست قانون نافذ کرنے کے بجائے عوام کی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی نے ریاست کے 55 میں سے تقریباً 45 اضلاع میں اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ ضلع پنچایتوں، کلکٹروں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام، مختلف برادریوں اور نچلی سطح پر اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ اس کا مقصد یو سی سی کے مثبت اور عملی پہلوؤں کو عوام تک پہنچانا اور ان کا اعتماد جیتنا ہے۔

اس قانون کا بنیادی مرکز کیا ہوگا؟

مدھیہ پردیش میں یو سی سی کے نفاذ کے بعد، تمام مذاہب اور برادریوں پر شادی، طلاق، گود لینے اور جائیداد کی وراثت جیسے خاندانی معاملات میں یکساں قانون لاگو ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مدھیہ پردیش میں یو سی سی کو لاگو کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا اتراکھنڈ میں، کیونکہ یہاں کی تقریباً 21 فیصد آبادی قبائلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر موہن یادو حکومت قبائلیوں کے روایتی حقوق اور ان کے پانی، جنگل اور زمین کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے درمیانی راستہ تلاش کر رہی ہے۔ کمیٹی قبائلی برادری کے خصوصی ثقافتی حقوق اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی مسودہ تیار کر رہی ہے، تاکہ کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔