پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (NC) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرآن کریم کو سیاسی دشمنی میں گھسیٹ کر بی جے پی (BJP) کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس پرشدید تنقید
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے آج سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس پرشدید تنقید کی۔ انہوں نےالزام لگایا کہ راجیہ سبھا انتخابات کے تنازعے میں قرآن پاک کا حوالہ دے کر نیشنل کانفرنس دراصل بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ اردو زبان کو نظر انداز کرنا اور سراج العلوم جیسے تعلیمی اداروں پر پابندی کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیشنل کانفرنس کشمیریوں کے مفادات کے بجائے مخصوص سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
قرآن کو سیاست میں لانے کا الزام
محبوبہ مفتی نے این سی پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مقدس کتاب کا سہارا لے رہی ہے اور سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کے لیے دین کا غلط استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلم اداروں، اوقاف اور مساجد کو نشانہ بنا رہی ہے۔
کراس ووٹنگ پر سیاسی تنازع
جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹنگ کو لے کر تنازعہ پر حکمراں نیشنل کانفرنس نے اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ایم ایل ایز سے کہا کہ وہ قرآن کی قسم کھائیں کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔این سی کے چیف ترجمان اور زاڈی بل ایم ایل اے تنویر صادق نے کہا کہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور ان کے تین ایم ایل ایز کو قرآن پر حلف دینا چاہئے کہ انہوں نے بی جے پی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔
اکتوبر 2025 میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹنگ کے تنازعہ کو لے کر حکمراں جماعت گزشتہ ایک ہفتے سے اپنی حریف پی ڈی پی پر حملہ کر رہی ہے۔ ان انتخابات میں این سی، جس کو 59 ایم ایل ایز کی حمایت حاصل تھی، نے تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، جب کہ بی جے پی جس کے پاس صرف 28 ایم ایل اے تھے، نے ایک سیٹ جیتی تھی ۔
تنازعہ پچھلے مہینے اس وقت شروع ہوا جب ایک آر ٹی آئی استفسار سے پتہ چلا کہ این سی اور بی جے پی نے دو دو مجاز ایجنٹوں کو مقرر کیا ہے۔ تاہم، پی ڈی پی، جس کے اس وقت تین ایم ایل ایز تھے (اب بڈگام ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد چار) نے کوئی ایجنٹ مقرر نہیں کیا۔ کانگریس، پی ڈی پی، سی پی آئی (ایم) اور عوامی اتحاد پارٹی نے این سی کی حمایت کا دعویٰ کیا۔