• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ کا ایران پر حملہ، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی: جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں

امریکہ کا ایران پر حملہ، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی: جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 27, 2026 IST

امریکہ کا ایران پر حملہ، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی: جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں
امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے بعد جنگ بندی کی نازک صورتِ حال برقرار تھی اور امن مذاکرات جاری تھے۔
 
امریکی کارروائی اور ایران کا جوابی دعویٰ
 
امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی افواج نے ایرانی فوجی مقامات پر بمباری کی، جس کے فوراً بعد خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ دوسری جانب، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی فضائی حملوں کا فوری جواب دیتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
 
ایرانی قیادت اور عسکری حکام کا سخت ردِعمل
 
ایران کی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم عزیزی نے امریکہ پر جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران دوبارہ حملہ کیا۔ اس اقدام سے امریکہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مذاکرات کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کا۔ اب ایران پر الزام تراشی کرنے سے زمینی حقائق اور حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔
 
ادھر ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے فوجی ترجمان ابراہیم الفقر نے بھی امریکہ کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس حملے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور ردِعمل کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب خود کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا:
 
"اگر مزید حملے کیے گئے تو اس کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ ایران پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے، اس بار ہمارا جواب پہلے سے زیادہ سخت، فیصلہ کن اور بے مثال ہوگا۔" اس تازہ ترین فوجی ٹکراؤ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں اور خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
 
لبنان کی صورتحال
 
مشرقِ وسطیٰ کی اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر لبنان بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک طرف جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے، وہیں دوسری طرف واشنگٹن میں امریکہ، لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک اہم سہ فریقی فریم ورک (Trilateral Framework) معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
 
معاہدے کے بنیادی نکات:
 
سرحدی کشیدگی میں کمی لانا۔
 
لبنان کے اندر ریاستی عملداری اور حکومتی کنٹرول کو مضبوط بنانا۔
 
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار طریقہ کار طے کرنا۔
 
لبنانی صدر جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کی بحالی اور ملک میں طویل المیعاد امن و استحکام قائم کرنے کی سمت میں ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔
 
تاہم، لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ نے اس سہ فریقی معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاہدے کو طاقت کے بل بوتے پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتیجے میں ملک کے اندرونی حالات مزید خراب ہوں گے اور کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔