• News
  • »
  • قومی
  • »
  • مسلم شادیوں پر شرعی قانون لاگو۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا چونکا دینے والا فیصلہ

مسلم شادیوں پر شرعی قانون لاگو۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا چونکا دینے والا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 10, 2026 IST

مسلم شادیوں پر شرعی قانون لاگو۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا چونکا دینے والا فیصلہ
 کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم شادیوں پر سنسنی خیز فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونے کے باوجود مسلم شادیوں پر شرعی قانون لاگو ہوگا۔ جسٹس ڈی کے سنگھ اور جسٹس ٹی ایم نداف کی بنچ نے 'ساجد پرویز بنام فرزانہ تاج' کیس میں فیملی کورٹ کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا۔

مسلم پرسنل لا کےتحت ہوئی شادیوں پر شرعی قانون 

ڈویژن بنچ نے واضح کیا ہے کہ شوہر کی جانب سے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی درخواست دائر کی گئی ہے جو کہ غلط ہے۔ یہ خیال کیا گیا ہے کہ شادی کی اصل نوعیت صرف اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت 'نکاح' رجسٹر کرنے سے نہیں بدلتی ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت ہونے والی شادیوں پر شرعی قانون لاگو ہوتا ہے۔ یہ خیال کیا گیا ہے کہ صرف غیر ملکی سفر/ویزہ کے مقصد کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کو رجسٹر کرنے سے مسلم پرسنل لا کو کالعدم نہیں کیا جاتا۔

 نکاح شرعی،طلاق کیلئے اسپیشل میرج ایکٹ کیوں؟

یہ انکشاف ہوا ہے کہ جو جوڑے 'نکاح' کر چکے ہیں وہ طلاق کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ کا سہارا نہیں لے سکتے۔ ہائی کورٹ ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ پرسنل لاز کے تحت ہونے والی شادیوں پر صرف مذہبی اصول لاگو ہوتے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت طلاق حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی اسی ایکٹ کے تحت ہوئی ہو۔

 کیس کا پس منظر

 پہلے نکاح اور اس کےبعد اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹریشن

دونوں مسلم فریقین، (ساجد پرویز اور فرزانہ تاج)نے 4 اپریل 2015 کو شریعت کے مطابق نکاح کیا تھا۔اس کے بعد نکاح کو،رجسٹرار نکاح کے پاس باقاعدہ اندراج کیا گیا۔چونکہ وہ بیرون ملک سفر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے بعد ازاں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت اپنی شادی رجسٹر کرائی اور 21 دسمبر 2015 کو نکاح نامہ جاری کیا گیا۔

ازدواجی تنازعات کے بعد طلاق کی عرضی 

ازدواجی تنازعات کے بعد، شوہر نے اسپیشل میرج ایکٹ کے سیکشن 27 کے تحت طلاق کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔فیملی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شادی مسلم پرسنل لاء کے تحت کی گئی تھی اور اس کے بعد ایس ایم اے کے تحت رجسٹریشن نے اسے اس قانون کے تحت چلنے والی شادی میں تبدیل نہیں کیا تھا۔

 فیملی کورٹ کےبعد ہائی کورٹ سے رجوع

کرناٹک ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی مسلم جوڑے کی شادی پہلے مسلم پرسنل لا کے تحت ہوئی ہو اور بعد میں اسے اسپیشل میرج ایکٹ (SMA)، 1954 کے تحت رجسٹر کرایا جائے تو محض رجسٹریشن سے وہ شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادی میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔ ایسی شادی کے معاملے میں طلاق سے متعلق دفعات بھی خود بخود SMA کے تحت لاگو نہیں ہوں گی۔ہائی کورٹ کے سامنے شوہر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی رجسٹر ہونے کے بعد اس کی مسلم شادی کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور اسے SMA کے تحت شادی تصور کیا جانا چاہیے، جس کے نتیجے میں طلاق کی متعلقہ دفعات بھی لاگو ہوں گی۔

 شوہر کی دلیل مسترد 

تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ امیکس کیوری (عدالت کے معاون وکیل) کی جانب سے پیش کی گئی دلیل کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اسپیشل میرج ایکٹ ان شادیوں پر لاگو ہوتا ہے جو خود اسی قانون کے تحت منعقد (solemnised) ہوئی ہوں۔ ایسی شادی جو پہلے ذاتی قانون کے تحت ہوئی ہو اور بعد میں صرف اسپیشل میرج ایکٹ ( SMA) کے تحت رجسٹر کی گئی ہو، اسے طلاق کے معاملے میں SMA کے تحت شادی نہیں سمجھا جا سکتا

عدالت  نے اپیل کی خارج

عدالت نے اس معاملے میں شوہر کی جانب سے پیش کیے گئے دہلی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو بھی الگ قرار دیا۔ بنچ نے کہا کہ دہلی کے معاملے میں شادی خود اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی، جبکہ موجودہ معاملے میں شادی مسلم پرسنل لا کے تحت ہوئی تھی۔
ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔

SMA کے تحت دوسری شادی پر بھی اہم فیصلہ

حال ہی میں کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ اگر کسی مسلم شخص کی پہلی شادی برقرار ہو اور وہ اس دوران اسپیشل میرج ایکٹ، 1954 کے تحت دوسری شادی کرے تو ایسی دوسری شادی ابتدا ہی سے کالعدم (void ab initio) ہوگی۔جسٹس سچن شنکر مگدم نے ایک خاتون کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی تھی، جس نے خود کو ایک تقسیمِ جائیداد کے مقدمے میں متوفی مدعا علیہ کی دوسری بیوی قرار دیا تھا۔ عدالت نے اسے قانونی وارث کے طور پر مقدمے میں شامل کرنے سے انکار کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم اس رشتے سے پیدا ہونے والی بیٹی کو قانونی نمائندہ کے طور پر شامل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی۔

مسلم پرسنل لا کےتحت مسلم مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت

عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لا مخصوص شرائط اور پابندیوں کے تحت ایک مسلم مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ اجازت صرف ان شادیوں تک محدود ہے جو مسلم پرسنل لا کے تحت منعقد ہوئی ہوں۔عدالت نے مزید کہا کہ جب فریقین شعوری طور پر اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ اس قانون کے لازمی قانونی نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔ 

ایس ایم ایکٹ سیکولر اور مکمل قانونی ضابطہ

عدالت نے واضح کیاکہ"اسپیشل میرج ایکٹ ایک سیکولر اور مکمل قانونی ضابطہ ہے، جو اس کے تحت ہونے والی شادیوں کی شرائط، انعقاد اور ان کے قانونی نتائج کو منظم کرتا ہے۔ جب فریقین اپنے ذاتی قانون کے بجائے شعوری طور پر اس ایکٹ کی دفعات اختیار کرتے ہیں تو وہ پارلیمنٹ کے وضع کردہ لازمی قانونی نظام کے تابع ہو جاتے ہیں۔"بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادیوں سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریاں خصوصی طور پر اسی قانون کے تحت طے ہوتی ہیں، نہ کہ مسلم پرسنل لا کے تحت ہوتی ہیں۔