Monday, September 07, 2026 | 23 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • نیپال میں سیلاب کی تباہی، 1,344 لاشیں برآمد، 5 ہزار لاپتہ

نیپال میں سیلاب کی تباہی، 1,344 لاشیں برآمد، 5 ہزار لاپتہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 07, 2026 IST

نیپال میں سیلاب کی تباہی، 1,344 لاشیں برآمد، 5 ہزار لاپتہ
نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد حالات اب بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ سیلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد اب تک 1,344 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 5,000 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ ساتھ سیلاب نے ملک کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق سیلاب سے ہونے والے مجموعی نقصان کی مالیت تقریباً 400 بلین نیپالی روپے بتائی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوں، رہائشی عمارتوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث معمول کی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
 
سیلاب کی تباہی کا اثر اب نیپال کی اہم ترین اقتصادی صنعت، یعنی سیاحت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ نیپال ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی اور مقامی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، خاص طور پر ستمبر سے نومبر تک کا عرصہ ملک میں سیاحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔تاہم حالیہ سیلاب کے باعث سیاحتی سرگرمیوں میں کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دی کھٹمنڈو پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوٹلوں اور ٹریول کمپنیوں نے ستمبر سے نومبر تک جاری رہنے والے چوٹی کے سیاحتی سیزن کے لیے ہونے والی بکنگ منسوخ کرنا شروع کر دی ہے۔
 
سیلاب کے بعد کئی سیاحوں میں سفر کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث بعض سیاحتی مقامات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر ہوٹلوں، ٹریول ایجنسیوں، ٹور آپریٹرز، گائیڈز اور سیاحت سے وابستہ دیگر کاروباروں پر پڑنے کا امکان ہے۔نیپال کی معیشت میں سیاحت کا اہم کردار ہے، اس لیے اگر سیاحوں کی آمد میں طویل عرصے تک کمی رہتی ہے تو اس کا اثر روزگار اور مقامی کاروباروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
 
حکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنا، لاپتہ افراد کی تلاش اور بنیادی سہولیات کو بحال کرنا ہے۔ سیلاب سے ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصان کے پیش نظر بحالی کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے۔نیپال اس وقت ایک طرف انسانی بحران سے نمٹ رہا ہے تو دوسری جانب سیلاب کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں سیلاب کے بعد بحالی کی رفتار اور سیاحتی سرگرمیوں کی صورتحال ملک کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔