Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال میں نیا خطرہ، بھوٹے کوشی کے لیے الرٹ جاری

تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال میں نیا خطرہ، بھوٹے کوشی کے لیے الرٹ جاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 30, 2026 IST

تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال میں نیا خطرہ، بھوٹے کوشی کے لیے الرٹ جاری
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اور تلاش کا کام ابھی جاری ہے کہ دریائے بھوٹے کوشی میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کی اطلاع نے ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی نے دریائے بھوٹے کوشی کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق رسوا کے ضلعی انتظامیہ کے دفتر کو دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی اطلاع ملی ہے۔ اس کے بعد رسوا، نوواکوٹ اور دھادنگ کے ان علاقوں کے لوگوں کو محتاط رہنے کا کہا گیا ہے جو دریا کے قریب واقع ہیں۔
 

سیلاب سے 734 افراد ہلاک 

نیپال میں بدھ کو پیش آئے تباہ کن سیلاب سے کم از کم 734 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2,498 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ مختلف علاقوں سے لاشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق چتوان سے 246، نوال پراسی ایسٹ سے 165، نوال پراسی ویسٹ سے 63 اور گورکھا سے 57 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ دھادنگ سے 45، نوواکوٹ سے 51، تناہو سے 35 اور رسوا سے 13 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
 

275 سے زیادہ بھارتی شہری لاپتہ

بھارت کی وزارت خارجہ کے مطابق سیلاب کے بعد 275 سے زیادہ بھارتی شہری لاپتہ ہیں، جبکہ 108 بھارتی شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی نژاد 128 افراد کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ چین کے مقامی حکام کے مطابق گزشتہ دو دن میں 598 بھارتی شہری بحفاظت چین سے نیپال پہنچ چکے ہیں، جبکہ تقریباً 900 بھارتی شہری چین کی جانب محفوظ ہیں اور ان سے رابطہ بھی قائم ہے۔ رسوا کے ایک ہائیڈرو پاور منصوبے سے چار بھارتی شہریوں، ریپو کمار، چنیشور نرزاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین کو بچا لیا گیا ہے۔ ان کے کھٹمنڈو پہنچنے کی توقع ہے۔
 

تقریباً 2,500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

امدادی کاروائیوں کے دوران تقریباً 2,500 افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے، جن میں 163 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تلاش اور بچاؤ کے لیے 11 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 5 ہزار نیپالی فوج کے اہلکار شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باوجود متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
 

اچانک سیلاب کیسے آیا؟

یہ تباہی نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب بدھ کے روز پیش آئی۔ برف اور ملبے کے اچانک گرنے کے بعد پانی، کیچڑ اور ملبے کا تیز بہاؤ آیا، جس نے کئی دیہات اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ سیلاب سے سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے۔
 

مزید بارش سے امدادی کام متاثر ہونے کا خدشہ

نیپال کے محکمہ موسمیات نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مزید بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کی پیش گوئی کی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ خراب موسم سے تلاش اور بچاؤ کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔ ہائیڈرولوجی اور موسمیات کے حکام نے کئی صوبوں کے پہاڑی اور نشیبی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ موسمیات ماہرین کے مطابق رسوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر جگہوں پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے،  ایک دو مقامات پر شدید بارش کا امکان بھی ہے۔
 

چین نے ایک اور ممکنہ سیلاب سے خبردار کر دیا

چینی حکام نے تبت میں دریا کے منبع کے قریب ایک نئی رکاوٹ جھیل بننے کی اطلاع دی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر اس جھیل میں دراڑ پڑی یا پانی اچانک خارج ہوا تو نیپال کے نشیبی علاقوں میں ایک اور سیلاب آ سکتا ہے۔ اسی خطرے کے باعث نیپالی حکام دریا کے بہاؤ اور موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
 
 

بھارت نے نیپال کے لیے مزید امداد بھیجی

بھارت نے نیپال کو امدادی سامان کی ایک اور کھیپ بھیجی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے سی-130 جے فوجی طیارے کے ذریعے 11 ٹن امدادی سامان کی چوتھی کھیپ نیپال پہنچائی گئی۔بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مطابق اس طیارے میں تلاش اور بچاؤ کے لیے تکنیکی ٹیم اور ضروری سامان کے ساتھ فرانزک ماہرین اور ڈی این اے جانچ کے لیے آلات بھی شامل تھے۔ فرانزک ٹیم سیلاب میں مہلوکین افراد کی شناخت کے لیے نیپالی حکام کی مدد کرے گی۔
بھارت اب تک مجموعی طور پر 68.5 ٹن امدادی سامان نیپال بھیج چکا ہے۔ اس کے علاوہ 230 فٹ طویل سنگل لین ماڈیولراسٹیل برج کی تعمیر کے لیے سامان لے جانے والے 16 ٹرک بھی نیپال پہنچ چکے ہیں۔ مزید سات بیلی  برج کے لیے سامان بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
 

بھارت نے رابطے کے لیے ہیلپ لائنیں قائم کیں

بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نیپالی اور چینی حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ بھارتی شہریوں کی تلاش اور امداد کے لیے کام کر رہی ہے۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے 24 گھنٹے کام کرنے والا کنٹرول روم قائم کیا ہے، جبکہ کھٹمنڈو اور بیجنگ میں بھارتی سفارت خانوں نے بھی ہیلپ لائنیں شروع کر دی ہیں۔ بھارت نے سرنگوں میں تلاش اور بچاؤ کے لیے ایک خصوصی تکنیکی ٹیم بھی نیپال بھیجی ہے۔ یہ ٹیم متاثرہ علاقے میں کام شروع کر چکی ہے، جبکہ مزید ٹنل ریسکیو سامان بھی نیپال پہنچایا جا رہا ہے۔ نیپال میں اس وقت امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور حکام دریائے بھوٹے کوشی کے پانی کے بہاؤ، مزید بارش اور ممکنہ نئے سیلاب کے خطرے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔