Wednesday, April 29, 2026 | 11 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • کیسے کریں نومولود بچوں کی نگہداشت؟

کیسے کریں نومولود بچوں کی نگہداشت؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 29, 2026 IST

کیسے کریں نومولود بچوں کی نگہداشت؟
نئے مہمان کی آمد ہر گھر میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ بڑی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔ منصف ٹی وی کے مقبول عام  پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں ماہرِ اطفال ڈاکٹر محمد ذکی اللہ نے نومولود بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق اہم اور بنیادی نکات پر روشنی ڈالی، جو ہر والدین کے لیے جاننا نہایت ضروری ہے۔

نومولود کا رونا کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر کے مطابق بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کا رونا انتہائی اہم ہوتا ہے، کیونکہ اس سے پھیپھڑے کھلتے ہیں اور جسم میں آکسیجن کی فراہمی شروع ہوتی ہے۔ اگر بچہ فوراً نہ روئے تو بعض اوقات مصنوعی سانس دینے کی ضرورت پیش آتی ہے، ورنہ اس کے جسمانی اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔

 فیڈنگ کے حوالے سے اہم ہدایات 

فیڈنگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر بچہ ماں کا دودھ پی کر 2 سے 3 گھنٹے سکون سے سو جائے، دن میں 6 سے 8 بار پیشاب کرے اور وزن میں بتدریج اضافہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ بچے کو مناسب غذا مل رہی ہے۔ ابتدائی دنوں میں ہر 2 سے 3 گھنٹے بعد فیڈنگ ضروری ہوتی ہے، تاہم دو ہفتوں بعد بچے کی نیند کا دورانیہ 4 سے 5 گھنٹے بھی ہو سکتا ہے، جو کہ نارمل ہے۔

نومولود کے ناف کی دیکھ بھال کیسے کریں 

نومولود کے ناف (امبیلکل کارڈ) کی دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ اسے خشک رکھا جائے اور اس پر کوئی چیز استعمال نہ کی جائے۔ اگر لالی، سوجن، بخار یا درد کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ انفیکشن کی نشانی ہو سکتی ہیں۔

بچوں میں یرقان ہونے پر کیا کریں؟

انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں میں یرقان (jaundice) عام ہوتا ہے، جو عموماً چند دنوں میں خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر 24 گھنٹوں کے اندر ظاہر ہو جائے یا جسم کے نچلے حصوں تک زردی پھیل جائے تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے، کیونکہ شدید صورت میں دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے۔

کینگرو مدر کیئر کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر محمد ذکی اللہ نے "کینگرو مدر کیئر" کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جس میں ماں اور بچے کا جلد سے جلد رابطہ بچے کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور جذباتی تعلق کو بہتر بناتا ہے، خاص طور پر کم وزن بچوں کے لیے یہ طریقہ بہت فائدہ مند ہے۔

 گھر پرکیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں 

گھر پر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، ہاتھ دھونے کی عادت اپنائی جائے اور نومولود کو بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے دور رکھا جائے۔ بیمار افراد کو بچے سے دور رکھنا بھی ضروری ہے۔

 یہ علامات ہو سکتےہیں خطر ناک

آخر میں ڈاکٹر نے چند خطرناک علامات کی نشاندہی کی، جن میں سانس لینے میں دشواری، جسم یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا، بخار، سستی یا دودھ نہ پینا شامل ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق درست معلومات اور بروقت احتیاطی تدابیر کے ذریعے نومولود کو ایک محفوظ اور صحت مند زندگی کی شروعات دی جا سکتی ہے۔ قارئین آپ ڈاکٹر محمد ذکی اللہ کی مکمل گفتگویہاں دیکھ سکتےہیں۔