ترنمول کانگریس (TMC) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب اے سی جے ایم (ACJM) کورٹ نے ان کے خلاف گرفتاری کا غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ یہ اقدام عدالت کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے اور بار بار طلبی کے باوجود سماعت کے لیے جسمانی طور پر پیش نہ ہونے پر اٹھایا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر اور الزامات
مہوا موئترا پر ایک انٹرویو کے دوران ہندوستانی فوج کے بارے میں متنازعہ اور توہین آمیز ریمارکس کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ، ان پر سوشل میڈیا پر پوسٹس کے ذریعے ہندوستانی فوج کے سپاہیوں، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، ہندو 'تلسی مالا' اور مسلم کمیونٹی کے 'حجاب' سے متعلق متنازعہ اور حساس تبصرے کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق:
مقدمے کا درج ہونا: ان تبصروں کے خلاف 12 جون 2026 کو کورٹ میں باقاعدہ کیس دائر کیا گیا تھا۔
عدالتی عدم تعمیل: عدالت کی جانب سے متعدد بار طلب کیے جانے اور جسمانی طور پر حاضر ہونے کے احکامات کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئیں، جس کے بعد عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے وارنٹ جاری کر دیا۔
مہوا موئترا کا سیاسی سفر
مہوا موئترا کا شمار ٹی ایم سی کی سب سے متحرک اور بیباک رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ بیرون ملک ایک کامیاب سرمایہ کاری بینکر (Investment Banker) تھیں اور انہوں نے جے پی مورگن (لندن) میں نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ہندوستان میں عوامی خدمت کا راستہ چنا۔
سیاسی شروعات: انہوں نے انڈین یوتھ کانگریس سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور بعد ازاں 2010 میں ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئیں۔
انتخابی کامیابیاں:
2016: مغربی بنگال کے کریم پور اسمبلی حلقے سے پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔
2019: کرشن نگر لوک سبھا سیٹ سے شاندار فتح حاصل کر کے پہلی بار رکن پارلیمنٹ بنیں۔
2023-2024: دسمبر 2023 میں 'کیش فار کوئری' (Cash for Query) تنازع کے باعث ان کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کر دی گئی تھی، تاہم انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دوبارہ کرشن نگر سے جیت حاصل کر کے لوک سبھا میں واپسی کی۔
ذاتی زندگی
مہوا موئترا کی پہلی شادی لارس برورسن (Lars Brorson) سے ہوئی تھی، جس کے بعد ان کے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔ بعد ازاں، مئی 2025 میں انہوں نے بی جے ڈی (BJD) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان پنکی مشرا کے ساتھ شادی کر لی۔