Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • نوجوان مردوں میں کم ٹیسٹوسٹیرون کی عام وجوہات کیا ہیں؟

نوجوان مردوں میں کم ٹیسٹوسٹیرون کی عام وجوہات کیا ہیں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

نوجوان مردوں میں کم ٹیسٹوسٹیرون کی عام وجوہات کیا ہیں؟
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Low Testosterone in Younger Men: What Are the Common Causes?" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ہری شنکر سنگھ، کنسلٹنٹ یورولوجسٹ اینڈ اینڈرولوجسٹ، Gemcare Poulomi Hospitals، ای سی آئی ایل، اے ایس راؤ نگر، سکندرآباد، حیدرآباد نے نوجوان مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی، اس کی ممکنہ وجوہات، علامات، تشخیص اورعلاج کے حوالے سے تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر ہری شنکر سنگھ نے بتایا کہ ٹیسٹوسٹیرون ایک اہم ہارمون ہے جو مردوں میں جنسی صحت کے ساتھ ساتھ پٹھوں، ہڈیوں، توانائی، موڈ اور مجموعی جسمانی صحت میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی صرف عمر بڑھنے کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں نوجوان مرد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اس مسئلے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز زندگی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے۔ جسمانی سرگرمی کی کمی، وزن میں اضافہ، موٹاپا، مسلسل ذہنی دباؤ، نیند پوری نہ ہونا اور غیر متوازن غذا ہارمونل صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذیابیطس، بعض ہارمونل بیماریاں، تھائیرائیڈ کے مسائل، خصیوں یا پٹیوٹری گلینڈ سے متعلق بیماریاں اور بعض ادویات بھی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو متاثر کر سکتی ہیں۔
 
علامات کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ ٹیسٹوسٹیرون کی کمی میں ہر شخص کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ جنسی خواہش میں کمی، صبح کے وقت قدرتی طور پر ہونے والی ایریکشن میں کمی، تھکن، توانائی کی کمی، موڈ میں تبدیلی، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور پٹھوں کی طاقت میں کمی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم صرف ان علامات کی بنیاد پر ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
 
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایک مرتبہ خون کے ٹیسٹ میں ٹیسٹوسٹیرون کم آنے کا مطلب لازماً بیماری نہیں ہوتا۔ درست تشخیص کے لیے علامات، طبی تاریخ اور مناسب وقت پر کیے گئے ٹیسٹ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر دوبارہ ٹیسٹ یا دیگر ہارمونز کی جانچ بھی تجویز کرسکتے ہیں تاکہ اصل وجہ معلوم ہو سکے۔
 
علاج کے بارے میں ڈاکٹر ہری شنکر سنگھ نے کہا کہ سب سے پہلے بنیادی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ موٹاپے، کم جسمانی سرگرمی یا نیند کی خرابی سے جڑا ہو تو طرز زندگی میں بہتری سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ مناسب ورزش، متوازن غذا، وزن کو قابو میں رکھنا، اچھی نیند اور ذہنی دباؤ کم کرنا ہارمونل صحت کے لیے اہم ہیں۔
 
انہوں نے نوجوانوں کو خود سے ٹیسٹوسٹیرون انجیکشن یا سپلیمنٹس استعمال کرنے سے خبردار کیا۔ خاص طور پر وہ مرد جو مستقبل میں اولاد چاہتے ہیں، انہیں بغیر ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے ٹیسٹوسٹیرون تھراپی شروع نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ بیرونی ٹیسٹوسٹیرون بعض افراد میں اسپرم کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ہری شنکر سنگھ نے کہا کہ نوجوان مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے شرمندگی یا خاموشی کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر علامات مسلسل موجود ہوں تو مستند یورولوجسٹ یا اینڈرولوجسٹ سے مشورہ لینا بہتر ہے۔ صحیح تشخیص کے بعد ہی مناسب علاج کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
 
 قارئینڈاکٹر ہری شنکر سنگھ، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور ہیلتھ سے جڑے کسی بھی معاملے پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔