Tuesday, June 16, 2026 | 29 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ای ڈی کی پوچھ گچھ کے دوران ابھیشیک بنرجی کو دو گھنٹے میں حاضر ہونے کا سمن، ٹی ایم سی نے اٹھائے سوالات

ای ڈی کی پوچھ گچھ کے دوران ابھیشیک بنرجی کو دو گھنٹے میں حاضر ہونے کا سمن، ٹی ایم سی نے اٹھائے سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 16, 2026 IST

ای ڈی کی پوچھ گچھ کے دوران ابھیشیک بنرجی کو دو گھنٹے میں حاضر ہونے کا سمن، ٹی ایم سی نے اٹھائے سوالات
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندر جاری سیاسی تنازع کے درمیان لوک سبھا اسپیکر اوم برلا باغی ارکان پارلیمنٹ کی انضمام کی درخواست پر جلد بازی میں فیصلہ نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر پہلے دونوں فریقوں کے دلائل سنیں گے اور تمام حقائق اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔
 
یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کو اسپیکر کے دفتر کی جانب سے بھیجے گئے سمن پر تنازع پیدا ہوا۔ ٹی ایم سی ذرائع کے مطابق، اسپیکر کے دفتر نے 15 جون کو دوپہر 2 بجے ابھیشیک بنرجی کو ای میل بھیجی اور اسی روز شام 4 بجے ملاقات کے لیے طلب کیا۔
 
تاہم اس وقت ابھیشیک بنرجی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی پوچھ گچھ میں مصروف تھے اور انہیں اپنے موبائل فون یا ذاتی ای میل تک رسائی حاصل نہیں تھی، جس کے باعث وہ بروقت اسپیکر کے دفتر کا پیغام نہیں دیکھ سکے۔
 
ذرائع کے مطابق ای میل بھیجنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اسپیکر کے دفتر نے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں طے شدہ ملاقات کی اطلاع دی۔ کیرتی آزاد بعد میں اسپیکر کے دفتر پہنچے اور وضاحت کی کہ ابھیشیک بنرجی ای ڈی کی تفتیش میں مصروف ہونے کے باعث ملاقات میں شرکت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے نئی تاریخ اور وقت مقرر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ابھیشیک بنرجی اور ٹی ایم سی اس پورے عمل میں مکمل تعاون کریں گے۔
 
دوسری جانب، ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے حال ہی میں لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کر کے اپنے دھڑے کے کسی دوسری سیاسی جماعت میں انضمام کو سرکاری منظوری دینے کی درخواست کی ہے۔ ٹی ایم سی قیادت نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے پارٹی مخالف سرگرمی قرار دیا ہے۔
 
یہ معاملہ اب سیاسی اور قانونی دونوں اعتبار سے اہم بن چکا ہے اور سب کی نظریں لوک سبھا اسپیکر کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تمام فریقوں کے مؤقف سننے اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس تنازع پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔