جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی اہلیہ پائل عبداللہ نے اپنی شادی کو باہمی رضامندی سے ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ دونوں نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ "مکمل انصاف" کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ان کی شادی تحلیل کرنے کا حکم جاری کرے۔ یہ پیش رفت کئی برسوں سے جاری ازدواجی تنازع کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں ثالثی کے ذریعے دونوں فریق ایک باہمی تصفیے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کے درمیان تمام تنازعات باہمی اتفاق رائے سے طے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بنچ کو آگاہ کیا کہ آرٹیکل 142 کے تحت ضروری درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں اور عدالت اب براہِ راست طلاق کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ دونوں فریق اس معاملے کو خوش اسلوبی سے ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 142 سپریم کورٹ کو خصوصی اختیارات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ کسی بھی مقدمے میں "مکمل انصاف" کو یقینی بنا سکے۔ اسی اختیار کے تحت عدالت، اگر مناسب سمجھے، تو بعض قانونی تقاضوں یا مقررہ مدت کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست شادی ختم کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔
عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی یکم ستمبر 1994 کو ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ تاہم، دونوں 2009 سے علیحدہ رہ رہے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ازدواجی تعلقات بحال نہیں ہو سکے۔ طویل علیحدگی کے بعد دونوں نے باہمی رضامندی سے اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل عمر عبداللہ نے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے اپنی اہلیہ پر ظلم اور ازدواجی تعلقات سے دستبرداری کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم، دہلی کی فیملی کورٹ نے 2016 میں ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ نے بھی دسمبر 2023 میں فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ پیش کیے گئے الزامات قانونی طور پر طلاق کی بنیاد ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
ہائی کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کے بعد عمر عبداللہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے دونوں فریقین کو سپریم کورٹ میڈی ایشن سینٹر کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ہدایت دی، جہاں ثالثی کے عمل کے دوران دونوں ایک باہمی تصفیے پر متفق ہو گئے۔ اب سپریم کورٹ آئندہ سماعت میں آرٹیکل 142 کے تحت ان کی مشترکہ درخواست پر غور کرے گی۔