Monday, April 20, 2026 | 02 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • پری میچور بچوں کی پیدائش: وجوہات، چیلنجز اور جدید طبی سہولیات سے بہتر مستقبل کی امید

پری میچور بچوں کی پیدائش: وجوہات، چیلنجز اور جدید طبی سہولیات سے بہتر مستقبل کی امید

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 20, 2026 IST

پری میچور بچوں کی پیدائش: وجوہات، چیلنجز اور جدید طبی سہولیات سے بہتر مستقبل کی امید
پری میچور یعنی وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش آج کے دور میں ایک اہم طبی مسئلہ بن چکی ہے۔ عام طور پر اگر بچہ حمل کے 37 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے پیدا ہو جائے تو اسے پری میچور  پیدائش قرار دیا جاتا ہے۔  منصف ٹی وی کے خاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں ماہرڈاکٹر تیجوپرتاپ اولیٹی  نے شرکت کی ۔ان کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں، جنہیں ابتدائی دنوں میں خصوصی طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔
 
حیدرآباد کے یشودا ہسپتال ہائی ٹیک سٹی کے سینیئر نیونٹولوجسٹ ڈاکٹر تیجو پرتاپ اولیٹی کے مطابق پری میچور پیدائش کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ماں کی صحت کے مسائل جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردوں کی بیماری یا دیگر دائمی بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پلیسینٹا کی خرابی، جینیاتی مسائل اور بچے کی نشوونما میں رکاوٹ بھی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہیں۔
 
ڈاکٹرز کے مطابق آج کے دور میں طرزِ زندگی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ زیادہ اسٹریس، غیر متوازن غذا، موٹاپا اور غیر فعال زندگی (Sedentary lifestyle) حمل پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ معمولی ورزش، یوگا، متوازن غذا اور ذہنی سکون کے ذریعے ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
 
پری میچور بچوں کو پیدائش کے بعد کئی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے پھیپھڑے، مدافعتی نظام اور نظامِ ہاضمہ مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات، انفیکشن اور خوراک ہضم کرنے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض کیسز میں دماغی پیچیدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
 
تاہم جدید طبی ترقی نے ان بچوں کے لیے امید کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ نیشنل انٹینسیو کیئر یونٹ (NICU) میں خصوصی آلات، انکیوبیٹرز اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی موجودگی نے ان کی بقا کے امکانات کو بہت بہتر بنا دیا ہے۔ آج 28 ہفتوں کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں 90 فیصد سے زیادہ بقا کی شرح دیکھی جا رہی ہے۔
 
ماہرین کے مطابق “کینگرو مدر کیئر” (Kangaroo Mother Care) ایک انتہائی مؤثر طریقہ ہے جس میں ماں اور بچے کے درمیان اسکن ٹو اسکن رابطہ رکھا جاتا ہے۔ اس سے بچے کا درجہ حرارت بہتر رہتا ہے، انفیکشن کم ہوتے ہیں اور نشوونما تیز ہوتی ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف بچے بلکہ والدین کے ذہنی دباؤ میں بھی کمی آتی ہے۔
 
گھر منتقل ہونے کے بعد بھی خصوصی احتیاط ضروری ہے، جیسے بچے کو گرم رکھنا، حفظانِ صحت کا خیال رکھنا، باقاعدہ دودھ پلانا اور فالو اپ چیک اپس کروانا۔آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پری میچور پیدائش ایک چیلنج ہے، لیکن جدید طب اور والدین کی محبت کے ساتھ ان بچوں کی زندگی بالکل نارمل اور صحت مند ہو سکتی ہے۔ بروقت طبی دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ قارئین ڈاکٹر کی  مکمل بات چیت  پر مشتمل ویڈیو یہاں دیکھئے۔