سپریم کورٹ نے پیر کو کارکن عمرخالد کی طرف سے دائر نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا، اور 2020 کے دہلی فسادات سے منسلک بڑے سازشی کیس میں ضمانت سے انکار کرتے ہوئے اپنے پہلے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس کے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کی کوئی معقول بنیاد نہیں تھی اور اس نے اپنے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھنے کا انتخاب کیا۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے نظرثانی درخواست کی زبانی سماعت کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔
پہلے کے احکام اور پیش رفت
اس سال کے شروع میں 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک اور ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت بھی مسترد کر دی تھی۔ تاہم، عدالت نے پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی اور یہ نوٹ کیا کہ کیس میں ملوث تمام افراد برابری کی بنیاد پر نہیں کھڑے ہیں۔عدالت نے مقدمے کی کاروائی میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے دلائل کو مسترد کر دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام، جو 2020 سے زیر حراست ہیں، محفوظ گواہوں کی جانچ کے بعد یا حکم کی تاریخ سے ایک سال کے بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
الزامات پرعدالتی مشاہدات
بنچ نے پہلے کہا تھا کہ خالد اور امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ کے تحت پہلی نظر میں مقدمہ موجود ہے۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ کے مواد نے فسادات کے سلسلے میں "سازش کرنے، متحرک کرنے اور اسٹریٹجک سمت دینے" میں ان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔
نظرثانی کی درخواست کیا ہے؟
سپریم کورٹ کے قوانین کے مطابق، نظرثانی کی درخواست پر وہی ججز غور کرتے ہیں جنہوں نے اصل فیصلہ سنایا تھا۔ ایسی درخواستوں کا چیمبر میں جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کا مقصد فیصلے سے پیدا ہونے والی کسی بھی واضح غلطی یا سنگین ناانصافی کو دور کرنا ہوتا ہے۔ فریقین کھلی عدالت میں سماعت کی درخواست بھی کر سکتے ہیں اگر انہیں یقین ہے کہ اس فیصلے سے اہم ناانصافی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے اس سازش کے معاملے میں کل 18 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے 11 کو اب تک ضمانت مل چکی ہے۔