پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کا آج 10 واں دن ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر منگل کو دوپہر 2 بجے راجیہ سبھا میں بیان دیں گے۔ پیر کو انہوں نے ایران جنگ پر لوک سبھا میں 25 منٹ کی تقریر کی تھی۔مودی نے کہا تھا کہ اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں جو مشکل صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے اس لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں متحد رہنا چاہیے۔
انہوں نےکہاکہ ہم نے کورونا کے دور میں بھی اتحاد کے ساتھ ایسے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کا بحران نہ ہو۔ اس کیلئے اب ہم 27 کے بجائے 41 ممالک سے درآمد کر رہے ہیں۔ پی ایم مودی نے کہاکہ ایک کروڑ ہندوستانی مغربی ایشیا میں رہتے ہیں۔ ان کی حفاظت ہماری ترجیح ہے۔
بتاتے چلیں کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کل پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف مقامات کے پٹرول پمپس پر عوام کی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اسی طرح کے مناظر گجرات کے موربی میں دیکھنے کو مل رہے ہیں جہاں کئی پٹرول پمپس پر پٹرول حاصل کرنے کیلئے عوام کی بھیڑ جمع ہورہی ہے۔ اس دوران موربی انتظامیہ نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ایندھن کے بحران کی افواہوں پر بھروسہ نہ کریں اور پٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں سے گریز کریں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں ہے اس لئے افواہوں پر توجہ نہ دیں۔