• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • کیتن اگروال قتل کیس: پولیس تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات، منگیتر اور مبینہ عاشق پر سنگین الزامات

کیتن اگروال قتل کیس: پولیس تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات، منگیتر اور مبینہ عاشق پر سنگین الزامات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 27, 2026 IST

کیتن اگروال قتل کیس: پولیس تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات، منگیتر اور مبینہ عاشق پر سنگین الزامات
پونے میں پیش آئے کیتن اگروال قتل کیس کی تفتیش میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران مرکزی ملزمہ سیا گوئل نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ کیتن اگروال سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
 
تحقیقات کے مطابق، سیا کا خیال تھا کہ اگر کیتن کی موت ہو جائے تو اسے دوبارہ شادی کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے کم از کم تین سال کا وقت مل جائے گا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مبینہ شریکِ ملزم چیتن چودھری بھی یہی چاہتا تھا تاکہ وہ مناسب وقت گزرنے کے بعد سیا سے شادی کر سکے۔
 
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کو خدشہ تھا کہ اگر منگنی توڑ دی گئی تو ان کے خاندانوں کو سماجی بدنامی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے، تفتیش کاروں کے مطابق، دونوں نے مبینہ طور پر کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی۔
 
تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سیا گوئل، کیتن سے فروری میں منگنی ہونے سے پہلے، جنوری میں اپنے دوستوں کے ساتھ چیتن چودھری کے ہمراہ راجستھان کے ادے پور گئی تھی، جہاں دونوں نے تقریباً پانچ روز گزارے۔ پولیس کے مطابق چیتن چودھری کا تعلق بھی راجستھان سے ہے۔
 
تفتیشی ٹیم دونوں کے تعلقات کی ٹائم لائن، سفری ریکارڈ، موبائل فون ڈیٹا اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ مبینہ سازش کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک جمع کیے گئے تمام شواہد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
 
واضح رہے کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری پر الزام ہے کہ انہوں نے 18 جون کو پونے کے لوہا گڑھ قلعے سے کیتن اگروال کو گھاٹی میں دھکیل کر قتل کیا۔ کیتن اور سیا کی شادی رواں سال نومبر میں طے تھی، جس کے لیے ادے پور کے ایک محل میں شاندار تقریب کا بھی انتظام کیا جا چکا تھا۔
 
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔