اتر پردیش میں وقف املاک کے حوالے سے ایک بہت بڑی کاروائی سامنے آئی ہے، جہاں ریاست کی 31 ہزار سے زائد وقف املاک کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب کئی قبرستانوں، درگاہوں اور مسجدوں کی زمینیں وقف کے دائرے سے باہر ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے لکھنؤ سمیت پورے یوپی کے وقف حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
’امید‘ (Umeed) پورٹل پر رجسٹریشن تھا لازمی:
مرکزی وزارتِ اقلیتی امور نے گزشتہ سال 5 جون سے ملک کی تمام وقف املاک کو 'امید پورٹل' پر ڈیجیٹل طور پر درج کرنا لازمی قرار دیا تھا تاکہ شفافیت لائی جا سکے۔شروع میں اس کام کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ بعد میں 'یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ' اور 'شیعہ سینٹرل وقف بورڈ' کی درخواست پر یوپی وقف ٹربیونل نے مزید 6 ماہ کی مہلت دی، جس کی آخری تاریخ اب 5 جون طے کی گئی ہے۔ ٹربیونل کی جانب سے اب مزید وقت ملنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
امید پورٹل پر اب تک کیا ہوا؟
امید پورٹل پر اب تک اتر پردیش سے کل 1,18,302 وقف املاک کو رجسٹریشن کے لیے درج کیا گیا ،ان میں سے صرف 53,711 جائیدادوں کو منظوری ملی ہے۔20,546 جائیدادوں کے دستاویزات ابھی تفتیش کے آخری مرحلے میں ہیں۔سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ 31,328 جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن منسوخ ہونے کی بنیادی وجوہات:
تفتیش میں سامنے آیا کہ کئی جائیدادوں کے کھسرا نمبر وقف بورڈ کے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے۔ کئی معاملات میں زمین کا رقبہ بدل چکا ہے، جبکہ کچھ درگاہوں اور قبرستانوں کی زمین ایک سے زیادہ وقف ریکارڈ میں درج پائی گئی۔ ریونیو ریکارڈز اور وقف دستاویزات میں فرق بھی بڑی وجہ بن کر سامنے آیا۔
ان اضلاع میں ملیں سب سے زیادہ خامیاں:
سرکاری رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ گڑبڑیاں جونپور، بارہ بنکی اور مظفر نگر کے اضلاع میں دیکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ علی گڑھ، بستی، اناؤ، سیتا پور، ہردوئی، اعظم گڑھ اور دارالحکومت لکھنؤ میں بھی بڑی تعداد میں وقف املاک کے دعوے خارج کر دیے گئے ہیں۔
وقف معاملات کے ماہر اور سینیئر ایڈوکیٹ آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ٹربیونل اب 6 ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں بڑھا سکتا۔ سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ 1995 کی کچھ دفعات پر روک ضرور لگا رکھی ہے، لیکن تکنیکی طور پر وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب جن املاک کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں، ان کے 'متولیوں' (نگرانوں) کو انفرادی طور پر ٹربیونل میں اپیل کرنی ہوگی۔
وقف بورڈ کے حکام کی وارننگ:
وقف بورڈ کے عہدیداروں نے صاف کر دیا ہے کہ جن املاک کے دستاویزات میں کوئی کمی یا غلطی ہے، انہیں ہر حال میں 5 جون تک درست ریکارڈ کے ساتھ دوبارہ پورٹل پر اپلوڈ کرنا ہوگا۔ اگر طے شدہ وقت کے اندر یہ خامیاں دور نہ کی گئیں، تو یہ ہزاروں املاک مستقل طور پر ’امید‘ پورٹل سے باہر ہو جائیں گی اور ان کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی۔