Wednesday, March 25, 2026 | 05 شوال 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • امریکی-ایرانی کشیدگی میں وقفہ: بھارتی روپے کو وقتی سہارا، مگر خدشات برقرار

امریکی-ایرانی کشیدگی میں وقفہ: بھارتی روپے کو وقتی سہارا، مگر خدشات برقرار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 24, 2026 IST

 امریکی-ایرانی کشیدگی میں وقفہ: بھارتی روپے کو وقتی سہارا، مگر خدشات برقرار
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونالڈ  نے ایران کے توانائی اور بجلی کے ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ اس خبر کے بعد بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مضبوط ہوا، تاہم ماہرین اب بھی مستقبل کے حوالے سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

روپے کی موجودہ صورتحال

بھارتی روپیہ منگل کو 93.64 فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ گزشتہ سیشن میں ریکارڈ کم سطح 93.98 کے مقابلے میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ پیر کے روز روپیہ 0.37 فیصد کی کمی کے ساتھ 93.95 سے نیچے آ گیا تھا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تھی۔

وقتی بہتری، مستقل نہیں

ماہرین کے مطابق، اگرچہ پانچ روزہ وقفے کی خبر نے مارکیٹ کو وقتی ریلیف دیا ہے، مگر سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی مکمل بحال نہیں ہوا۔ اگر آئندہ دنوں میں کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

خام تیل کی قیمتیں: بڑی تشویش

بھارت چونکہ تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں روپے پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ مہنگا تیل درآمدی بل میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے کرنسی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کو بھی بڑھا سکتی ہیں، جو معیشت کی رفتار کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کی رائے

ایل کے پی سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ معاشی حالات کمزور ہیں اور جب تک جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی قیمتیں بلند رہیں گی، روپے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

آئندہ کی پیش گوئی

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں روپیہ 93.25 سے 94.25 کے درمیان رہ سکتا ہے، اور مجموعی رجحان منفی ہی رہے گا جب تک عالمی سطح پر کوئی واضح بہتری سامنے نہیں آتی۔

متضاد بیانات: غیر یقینی صورتحال

جہاں ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ  نے ایران کے ساتھ "مثبت اور تعمیری مذاکرات" کا دعویٰ کیا، وہیں ایران کے پارلیمانی اسپیکر Mohammad-Bagher Ghalibaf نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس تضاد نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ حالیہ پیش رفت نے روپے کو وقتی سہارا دیا ہے، مگر عالمی سیاسی حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتیں، آئندہ دنوں میں کرنسی کی سمت کا تعین کریں گی۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ محتاط رہیں اور عالمی خبروں پر گہری نظر رکھیں