کانگریس نے راجستھان کے سینئر رہنما سچن پائلٹ کو پنجاب کا نیا تنظیمی انچارج مقرر کر دیا ہے۔ 48 سالہ پائلٹ نے بھوپیش بگھیل کی جگہ لی ہے، جنہیں اب آسام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پنجاب میں اگلے سال کے شروع میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، جہاں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ ایسے وقت میں کانگریس نے پائلٹ کو یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاستی یونٹ میں موجود اندرونی اختلافات کو ختم کرنا اور تمام رہنماؤں کو متحد کرنا ہوگا۔
پنجاب کانگریس کافی عرصے سے گروپ بندی کا سامنا کر رہی ہے۔ ریاستی صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ اور سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی کے حامیوں کے درمیان اختلافات پارٹی کے لیے مسئلہ رہے ہیں۔اب سچن پائلٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ کانگریس کے اندر موجود مختلف گروپوں اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات ختم کریں اور سب کو ایک ساتھ لے کر چلیں، تاکہ آنے والے انتخابات سے پہلے پارٹی متحد اور مضبوط ہو جائے۔
اس سے پہلے جب بھوپیش بگھیل پنجاب کانگریس کے انچارج تھے تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ پارٹی کے مختلف گروپوں کے درمیان برابر کا رویہ نہیں رکھ سکے۔انہوں نے راجہ وارنگ کی حمایت کی اور قیادت میں تبدیلی کے مطالبات کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہوئے۔
سچن پائلٹ کی نئی ذمہ داری صرف پنجاب تک محدود نہیں سمجھی جا رہی بلکہ اس کا اثر راجستھان کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔ راجستھان میں اگلے اسمبلی انتخابات میں ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں، لیکن پائلٹ کے سیاسی مستقبل پر بحث جاری ہے۔ پارٹی کے کئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اگر پائلٹ پنجاب میں کانگریس کے لیے بہتر نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو انہیں راجستھان میں بھی مستقبل میں اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ سچن پائلٹ اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے درمیان راجستھان کانگریس میں قیادت کو لے کر اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ پائلٹ کے حامی انہیں آنے والے انتخابات میں پارٹی کے ممکنہ چہرے کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔