سپریم کورٹ نے صحافی رام چندر چھترپتی قتل کیس میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کی بریت کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ درخواست مقتول صحافی کے بیٹے کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے میں مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ کے سامنے سماعت کے دوران رام رحیم کی جانب سے سینئر وکیل آر. بسنت پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہریانہ حکومت نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی، جس میں رام رحیم کو بری کیا گیا تھا۔
اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ عدالت جانتی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اپیل دائر کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ عدالت کے اس ریمارک کو رام رحیم کے معاملے میں ہریانہ حکومت کے مبینہ نرم رویے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ رام رحیم کو سزا سنائے جانے کے بعد ہریانہ حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ پیرول دیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہیں اب تک 15 سے زیادہ مرتبہ پیرول یا عارضی رہائی مل چکی ہے۔
کیا ہے رام چندر چھترپتی قتل کیس؟
صحافی رام چندر چھترپتی کا تعلق سرسا، ہریانہ سے تھا۔ وہ اپنے اخبار ’پورا سچ‘ میں ڈیرہ سچا سودا سے متعلق کئی اہم معاملات پر رپورٹنگ کرتے تھے۔ اکتوبر 2002 میں انہیں ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ معاملے کی تحقیقات بعد میں مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کے حوالے کی گئی تھیں۔ جنوری 2019 میں پنچکولہ کی خصوصی عدالت نے گرمیت رام رحیم اور تین دیگر ملزمان، کلدیپ سنگھ، نرمل سنگھ اور کرشن لال کو قتل اور مجرمانہ سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم رواں سال 7 مارچ کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے دیگر تین ملزمان کی سزا برقرار رکھتے ہوئے گرمیت رام رحیم کو بری کر دیا۔اب مقتول صحافی کے بیٹے کی جانب سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد معاملہ ایک بار پھر عدالتی جانچ کے مرکز میں آ گیا ہے۔ نومبر میں ہونے والی سماعت میں یہ واضح ہوگا کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے فیصلے اور رام رحیم کی بریت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔