• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • رانچی میں طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ کے دوران لاٹھی چارج، کئی مظاہرین زخمی

رانچی میں طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ کے دوران لاٹھی چارج، کئی مظاہرین زخمی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 10, 2026 IST

رانچی میں طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ کے دوران لاٹھی چارج، کئی مظاہرین زخمی
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے طلبہ کے اسمبلی گھیراؤ کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔اسمبلی کی جانب مارچ کر رہے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے کارروائی کی اور طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی کارروائی میں کئی طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
 
طلبہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات سمیت مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے باوجود ان کے بنیادی مطالبات پر خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث انہیں سڑکوں پر اترنا پڑا۔اسمبلی گھیراؤ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد لاٹھی چارج کیا گیا۔ زخمی ہونے والے طلبہ کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
 
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور جب تک امتحانات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات اور اصلاحات کے مطالبات پر ٹھوس فیصلہ نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اسمبلی کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ رانچی میں طلبہ پر پولیس کارروائی کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کرتا ہے یا حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نکلتا ہے، اب سب کی نظریں اسی پر ہیں۔
 
دیویندر مہتو کا حکومت پر حملہ 
 
طلبہ رہنما دیویندر مہتو نے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ کی سالگرہ ہے اور حکومت نے طلبہ کو واٹر کینن اور آنسو گیس کی شکل میں ’’تحفہ‘‘ دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے اس رویے سے جھارکھنڈ کی بدنامی ہو رہی ہے۔دیویندر مہتو نے کہا کہ یہ تحریک حکومت کی اقتدار پر گرفت کو ہلا کر رکھ دے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت اتنی بڑی تعداد میں موجود طلبہ کے احتجاج کا جواب دینے میں ناکام ہو رہی ہے اور اب طلبہ کسی وفد سے بات نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا، اب ہم براہِ راست وزیر اعلیٰ سے بات کریں گے۔ حکومت نے طلبہ کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا ہے۔ اگر حکومت اپنی پوزیشن بچانا چاہتی ہے تو اسے ہمارے مطالبات پورے کرنے ہوں گے۔
 
آنسو گیس کی کارروائی پر طلبہ کیا بولے؟
 
میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاج میں شامل طالب علم نے کہا کہ طلبہ پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے، اس کے باوجود پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔احتجاج کے دوران کئی طلبہ نے اپنے چہرے کپڑے سے ڈھانپ رکھے تھے۔ ایک طالب علم نے کہا کہ وہ پولیس کی کارروائی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ ایک دوسرے طالب علم نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں نوکری مانگنے پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔
 
اسمبلی کی طرف مارچ کے دوران پولیس کارروائی
 
رانچی میں قانون ساز اسمبلی کی جانب مارچ کر رہے طلبہ کو روکنے کے لیے پولیس نے بڑی کارروائی شروع کی۔ مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے، جس کے بعد احتجاجی طلبہ پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آئے۔طلبہ کا مطالبہ ہے کہ مسابقتی امتحانات اور سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ازالہ کیا جائے اور نوجوانوں کو شفاف طریقے سے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
 
جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین ایل کھیانگٹے گرفتار
 
دوسری جانب سی آئی ڈی نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) کے سابق چیئرمین ایل کھیانگٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سی آئی ڈی ان سے پہلے بھی چار مرتبہ پوچھ گچھ کر چکی تھی۔ایل کھیانگٹے نے احتجاج کے درمیان گزشتہ روز ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ استعفے کے اگلے ہی روز ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی ہے۔ جھارکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج، پولیس کارروائی اور جے پی ایس سی سے متعلق معاملہ اب مزید سیاسی اور انتظامی دباؤ کا باعث بنتا دکھائی دے رہا ہے۔