غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس کے المواسی میں بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ جس علاقے کو جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے نسبتا محفوظ مقام قرار دیا گیا تھا، وہاں بھی حملوں اور تشدد کے واقعات نے ہزاروں بے گھر خاندانوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔المواسی میں بڑی تعداد میں فلسطینی خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں سے نکلنے کے بعد عارضی خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین، بچے، بزرگ اور زخمی افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم علاقے میں ہونے والے حملوں کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ غزہ میں بے گھر شہریوں کے لیے کوئی بھی جگہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہی۔
حملوں کے دوران خیموں میں رہنے والے خاندانوں کے درمیان خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ علاقوں سے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ لوگ اپنے بچوں اور اہل خانہ کو بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی تلاش میں بھاگتے رہے، جبکہ امدادی کارکنوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ المواسی میں پناہ لینے والے بیشتر افراد پہلے ہی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مسلسل نقل مکانی، خوراک اور صاف پانی کی کمی، طبی سہولیات پر دباؤ اور بنیادی ضروریات کی قلت نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ شہریوں، خصوصاً بچوں، خواتین اور طبی مراکز کو تحفظ فراہم کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یقینی بنایا جائے۔ ایسے میں محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات نے عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ غزہ میں جاری بحران کے دوران لاکھوں فلسطینی پہلے ہی بار بار نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور انہیں خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔
موجودہ صورتحال نے ایک بنیادی سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے: اگر بے گھر شہریوں کے لیے مختص ’محفوظ علاقوں‘ میں بھی ان کی سلامتی یقینی نہیں، تو عام فلسطینی شہری آخر کہاں جائیں؟ عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ
فراہمی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ غزہ میں عام شہریوں کی مشکلات اور انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔