Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • تمل ناڈو حکومت کا مسلم طالبات کے لیے بڑا اعلان

تمل ناڈو حکومت کا مسلم طالبات کے لیے بڑا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

تمل ناڈو حکومت کا مسلم طالبات کے لیے بڑا اعلان
تمل ناڈو حکومت نے اقلیتی برادریوں کی تعلیم، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کے لیے کئی اہم اعلانات کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم اعلان سرکاری کوٹے کے تحت اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لینے والی اہل مسلم طالبات کی مکمل انڈرگریجویٹ فیس حکومت کی جانب سے ادا کرنے کا ہے۔ یہ اعلان 28 اگست کو تمل ناڈو اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے محکمے کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران اقلیتی بہبود کے وزیر اے۔ ایم۔ شاہجہاں نے کیا۔
 
نئی اسکیم کے تحت سرکاری کوٹے کے ذریعے داخلہ حاصل کرنے والی اہل مسلم طالبات کی مکمل ٹیوشن فیس حکومت برداشت کرے گی۔ اس اسکیم کا دائرہ صرف سرکاری کالجوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ سرکاری امداد یافتہ اور خود مالی اعانت سے چلنے والے تعلیمی ادارے بھی اس میں شامل ہوں گے۔اس سہولت کے تحت آرٹس اور سائنس، انجینئرنگ، طب، زراعت اور قانون سمیت مختلف شعبوں کے انڈرگریجویٹ کورسز میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات فائدہ اٹھا سکیں گی۔ حکومت نے اس اسکیم کے لیے ابتدائی طور پر 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ حکومت کا مقصد مسلم خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا اور مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ رکنے سے بچانا ہے۔
 
تمل ناڈو حکومت نے مسلم طالبات کے لیے جاری ایک اور فلاحی اسکیم میں بھی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ تمل ناڈو وقف بورڈ کی جانب سے پہلے پہلی سے آٹھویں جماعت تک مسلم طالبات کو وظیفہ دیا جاتا تھا، لیکن اب اس اسکیم کا دائرہ بڑھا کر نویں اور دسویں جماعت تک کر دیا گیا ہے۔توسیع شدہ اسکیم کے تحت اہل طالبات کو سالانہ 2 ہزار روپے کی مالی مدد دی جائے گی۔ حکومت کے اندازے کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 41,384 طالبات فائدہ اٹھائیں گی، جبکہ اس اسکیم پر تقریباً 8.28 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
 
اقلیتی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو مزید فروغ دینے کے لیے تمل ناڈو وقف بورڈ نے چنئی میں ایک مخصوص آرٹس اینڈ سائنس کالج قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیر اے۔ ایم۔ شاہجہاں کے مطابق اس کالج کا مقصد اقلیتی خواتین کو بہتر اور آسان تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 2.45 کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ یہ اقدامات اقلیتی برادری، خصوصاً مسلم طالبات اور خواتین کو تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں گے اور ان کی سماجی و معاشی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔