• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثہ، 14 افراد جاں بحق

سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثہ، 14 افراد جاں بحق

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jun 29, 2026 IST

سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثہ، 14 افراد جاں بحق
سعودی عرب کے شہر راس تنورہ میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام متاثرین سعودی شہری تھے۔
 
وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ افسوسناک حادثہ اتوار 28 جون 2026 کو صبح تقریباً 6 بجے پیش آیا۔ بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر راس تنورہ کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس کے باعث جہاز میں موجود تمام افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
 
حکام نے بتایا کہ حادثے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جن میں متعلقہ سرکاری ادارے اور تکنیکی ماہرین شریک ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
 
راس تنورہ سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع ایک اہم تیل برآمدی مرکز ہے، جہاں دنیا کے بڑے خام تیل ٹرمینلز میں سے ایک موجود ہے۔ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث اس علاقے میں تیل کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔
 
ذرائع کے مطابق سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ تک محدود آپریشن کے بعد راس تنورہ ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی تھی۔ اس پیش رفت کے بعد تیل کی ترسیل معمول پر لانے کی کوششیں جاری تھیں کہ اسی دوران یہ حادثہ پیش آ گیا۔
 
سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، عالمی توانائی کی منڈی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود سعودی حکام تیل کی پیداوار اور برآمدات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی متاثر نہ ہو۔
 
حادثے کے بعد امدادی اور سیکیورٹی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں گی اور حادثے کی وجوہات سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
 
یہ حادثہ نہ صرف سعودی آرامکو بلکہ ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکام مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔