• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بڑا دعویٰ، حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے کا اعلان

ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بڑا دعویٰ، حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 31, 2026 IST

ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بڑا دعویٰ، حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے کا اعلان
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کےلیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ نہ اسرائیل اور نہ ہی حماس نے فوری طور پر اس معاہدے کی تصدیق یا اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی (ceasefire) کے دوسرے مرحلے پر کئی مہینوں سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی تھی.

معاہدہ کیسے ہوگا؟

ٹرمپ کے مطابق، یہ معاہدہ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ ان کے منصوبے کے مطابق: سب سے پہلے حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہوں گے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج غزہ سے واپس چلی جائے گی۔  پھر ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس اور نئی فلسطینی پولیس غزہ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار اور سرنگوں کا نیٹ ورک ختم کرے۔ اس منصوبے میں نئی ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔

حماس کا مؤقف

رپورٹ کے مطابق، حماس نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں سے متعلق کسی بھی بات چیت سے پہلے جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد چاہتی ہے۔ حماس کے بانی منشور میں اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت شامل ہے، اسی لیے تنظیم اپنے راکٹ، ٹینک شکن میزائل اور دیگر ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں دکھائی دیتی۔

غزہ کی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان

اس ماہ کے آغاز میں حماس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں اپنی حکومت ختم کر دی ہے اور جنگ بندی معاہدے کے تحت اقتدار اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، غزہ پولیس آئندہ دو ہفتوں میں اپنے ہتھیار نئی انتظامیہ کے حوالے کر سکتی ہے، اس میں حماس کے بھاری ہتھیار شامل نہیں ہوں گے۔

جنگ کیسے شروع ہوئی؟

غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت ہوا جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد اسرائیلی کاروائیوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے آدھے سے زیادہ علاقے پر موجود ہے، جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی بے گھر ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور کئی شہری علاقے شدید تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔