Tuesday, June 16, 2026 | 29 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • امریکہ میں بڑا فضائی حادثہ، ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے قریب، بی-52 بمبار طیارہ کریش، آٹھ افراد ہلاک

امریکہ میں بڑا فضائی حادثہ، ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے قریب، بی-52 بمبار طیارہ کریش، آٹھ افراد ہلاک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 16, 2026 IST

امریکہ میں بڑا فضائی حادثہ، ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے قریب، بی-52 بمبار طیارہ کریش، آٹھ افراد ہلاک
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک بڑا فوجی حادثہ پیش آیا، جہاں امریکی فضائیہ کا طاقتور B-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر شدید آگ اور سیاہ دھویں کے بادل دکھائی دیے، جبکہ طیارہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔
 
یہ حادثہ ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر پیش آیا، جو لاس اینجلس سے تقریباً 95 کلومیٹر شمال میں واقع امریکی فضائی آپریشنز کا ایک اہم مرکز ہے۔ ایئر بیس کے بیان کے مطابق B-52 طیارہ ایک معمول کے ٹیسٹ مشن پر تھا اور صبح 11:20 بجے ٹیک آف کے چند لمحوں بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے۔
 
واقعے کے فوراً بعد ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ امریکی فضائیہ نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ایئر فیلڈ کو عارضی طور پر بند کرکے آنے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
 
حادثے کی فضائی فوٹیج میں زمین پر ایک وسیع جلنے والا علاقہ دیکھا گیا، جہاں طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا تھا۔ میڈیا ہیلی کاپٹر سے لی گئی تصاویر میں حادثے کے کافی دیر بعد تک آسمان میں سیاہ دھویں کے گھنے بادل اٹھتے ہوئے نظر آئے۔
 
B-52 بمبار طیارہ کیا ہے؟
 
B-52 اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کا ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا بھاری بمبار طیارہ ہے، جس نے پہلی مرتبہ 1954 میں پرواز کی تھی۔ اسے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا، تاہم مسلسل جدید کاری کے باعث یہ آج بھی امریکی فضائی طاقت کا اہم حصہ ہے۔
 
یہ طیارہ بم، کروز میزائل اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 185 فٹ (56 میٹر) اور لمبائی 159 فٹ (48 میٹر) ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق اسے عام طور پر پانچ افراد کا عملہ چلاتا ہے، جبکہ اس کی آپریشنل رینج تقریباً 8,800 میل تک ہے۔
 
B-52 طیاروں کو امریکہ نے ویتنام جنگ، خلیجی جنگ، عراق، افغانستان اور حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں مختلف فوجی آپریشنز میں استعمال کیا ہے۔
 
اب اس حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے امریکی فضائیہ کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر دنیا کے قدیم ترین فعال فوجی طیاروں میں سے ایک B-52 کی حفاظت اور آپریشنل صلاحیتوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔