امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے افغانستان سے 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے پورے عمل کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی پینل تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس انخلا سے متعلق فوجی، انتظامی اور پالیسی سطح پر کیے گئے فیصلوں کا جامع جائزہ لے اور ان عوامل کی جانچ کرے جن کے باعث انخلا کے دوران کابل میں افراتفری اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی علامت تھا۔ تقریباً 20 سال تک افغانستان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے بعد امریکہ نے اگست 2021 میں اپنی افواج واپس بلانے کا عمل مکمل کیا۔ اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور ان کی قومی سلامتی ٹیم اس فیصلے اور انخلا کے عمل کی نگرانی کر رہی تھی۔
تاہم، امریکی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان کی صورتحال تیزی سے بدل گئی۔ طالبان نے ملک کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے کابل تک رسائی حاصل کر لی، جس کے بعد ہزاروں افغان شہری اور غیر ملکی باشندے ملک چھوڑنے کے لیے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچ گئے۔ ہوائی اڈے کے اطراف شدید افراتفری دیکھنے میں آئی اور انخلا کا عمل دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس دوران 26 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایبی گیٹ کے قریب ایک خودکش بم دھماکا ہوا۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں افغان شہری بھی جان سے گئے۔ اس سانحے نے امریکی انخلا کے انتظامات اور سکیورٹی پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
اب پیٹ ہیگستھ کی جانب سے تشکیل دیا گیا نیا پینل ان تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لے گا۔ تحقیقات میں یہ دیکھا جائے گا کہ انخلا کے دوران کون سے فیصلے کیے گئے، انٹیلی جنس اور سکیورٹی معلومات کا کس طرح استعمال کیا گیا اور آیا ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔ پینٹاگون کی اس نئی کوشش کے بعد افغانستان سے امریکی انخلا ایک بار پھر امریکی سیاست اور قومی سلامتی کے مباحثے کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔ ناقدین پہلے ہی اس انخلا کو امریکی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی ناکامی قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا موقف رہا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔
نئے پینل کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ 2021 کے انخلا کے دوران کیا خامیاں رہیں اور مستقبل میں ایسے بڑے فوجی انخلا کے دوران کن اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اس جائزے کے نتائج نہ صرف افغانستان کے باب کو دوبارہ بحث میں لے آئیں گے بلکہ امریکی فوجی اور خارجہ پالیسی کے مستقبل پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔