Wednesday, September 09, 2026 | 25 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانی حملے کے بعد امریکہ کی کاروائی، 5 آئل ٹینکر تباہ

ایرانی حملے کے بعد امریکہ کی کاروائی، 5 آئل ٹینکر تباہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 09, 2026 IST

ایرانی حملے کے بعد امریکہ کی کاروائی، 5 آئل ٹینکر تباہ
امریکہ نے ایران کے پانچ خام تیل لے جانے والے آئل ٹینکرز کو تباہ کر نے کا دعوی کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کاروائی ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی جانب سے گزشتہ دو دن کے دوران ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر دو مرتبہ بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
 
'CENTCOM' کے مطابق امریکی جنگی جہاز دونوں میزائل حملوں سے محفوظ رہا۔ حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور جنگی جہاز نے خطے کے سمندری علاقے میں اپنی گشت جاری رکھی۔ امریکی فوج نے 8 ستمبر کو ایران سے منسلک پانچ خام تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں چار جہاز خلیج عمان میں تھے، جبکہ پانچواں جہاز M/T Derya ایران کے جزیرہ خارگ کے قریب تھا۔ خلیج عمان میں نشانہ بنائے جانے والے چار جہازوں کے نام M/T Kaviz، M/T Charminar، M/T Horizon 1 اور M/T Riesco ہیں۔ پانچواں جہاز M/T Derya جزیرہ خارگ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ کاروائی سے پہلے ان پانچوں جہازوں کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے جہازوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا ہے۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
 
'CENTCOM' کا کہنا ہے کہ یہ آئل ٹینکرز ایران کے ایک بڑے غیر رسمی نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کے ذریعے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ حالیہ کاروائی چند دنوں میں ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف دوسری بڑی امریکی کاروائی ہے۔ اس سے پہلے 5 ستمبر کو امریکہ نے تین ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کاروائی بھی ایران کی جانب سے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر، پر بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش کے بعد کی گئی تھی۔
 

امریکہ نے چار ٹینکر خلیج عمان میں اور ایک جزیرہ خارگ کے قریب تباہ کیا

 
M/T Kaviz  خلیج عمان
 
M/T Charminar  خلیج عمان
 
M/T Horizon 1  خلیج عمان
 
M/T Riesco  خلیج عمان
 
M/T Derya  جزیرہ خرگ کے قریب
 
رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے 5 ستمبر کو ان پانچ ٹینکروں کو نشانہ بنانے سے پہلے بھی 3 ایرانی ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ یعنی گزشتہ چار دنوں میں امریکی حملوں کا نشانہ بننے والے ایرانی ٹینکروں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
 
ایران نے بھی امریکی کاروائی کا جواب دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اردن میں موجود امریکی زیر استعمال الازرق ایئربیس اور امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اہداف، خاص طور پر العزرق ایئر بیس، کی طرف میزائل داغے۔اردن کے مطابق اس کا فضائی دفاعی نظام 20 میں سے 18 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں کامیاب رہا۔ جبکہ باقی دو غیر آباد علاقوں میں گرے۔ 'IRGC' کے مطابق اس کاروائی کا مقصد ایرانی آئل ٹینکرز پر امریکی حملوں کا جواب دینا تھا۔ ایرانی فورسز نے اس آپریشن کو "یا حیدر کرار" کا نام دیا ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق حملے میں مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ 'IRGC' نے دعویٰ کیا کہ اردن کے الازرق ایئربیس میں F-35، F-16 اور F-15 لڑاکا طیاروں سے متعلق ہینگرز، پناہ گاہوں اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
 
ایران نے خبردار کیا ہے کہ کویت اور بحرین کے آئل ٹینکرز کو امریکی کاروائیوں کے جواب میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ان جہازوں کے عملے کو دونوں ممالک کی بندرگاہیں چھوڑنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق برینٹ 99.34 ڈالر تک گیا۔
 
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ تازہ کاروائیاں آبنائے ہرمز اور خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اور تیل سے متعلق اہداف کو نشانہ بنائے جانے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔