امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا جائے گا اور یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، تاہم ایران نے اس پر مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹول تو نہیں لگایا جائے گا لیکن مخصوص خدمات کے بدلے فیس وصول کی جا سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت عالمی آبی گزرگاہوں پر ٹول عائد کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اسے "سروس فیس" کی شکل میں نافذ کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایران بحری جہازوں کو کون سی خدمات فراہم کرے گا جن کے بدلے یہ فیس وصول کی جائے گی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے ٹول وصولی کے منصوبے کو سروس فیس کا نام دیا ہے، جبکہ اس سے قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جاتی تھی۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ آبنائے ہرمز کو "ہمیشہ کے لیے ٹول فری" بنائے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گا اور امریکی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے اسے کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا، کیونکہ اس تنازعے نے عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا اور خطے میں جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔
تاہم ایران کے تازہ بیان کے بعد یہ سوال دوبارہ کھڑا ہو گیا ہے کہ آیا آبنائے ہرمز حقیقت میں مکمل طور پر ٹول فری رہے گا یا سروس فیس کی صورت میں بحری جہازوں پر نیا مالی بوجھ عائد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، اگر ایسی فیس نافذ کی گئی تو اس کے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی بحری قوانین پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔