امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے مزید فوجی کارروائیاں روکنے اور تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق، دونوں فریق اس وقت اپنے موجودہ مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بھی جاری رہے گی۔
امریکی اہلکار نے بتایا کہ مفاہمت کی یادداشت (Memorandum of Understanding) سے متعلق تمام تکنیکی امور پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دونوں ممالک مزید فوجی کارروائی سے گریز کریں گے تاکہ نازک جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے۔ تاہم، انہوں نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ مذاکرات کا اگلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منگل کے روز منعقد ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان شدید فوجی کشیدگی دیکھی گئی۔ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی اس ہفتے دوحہ میں ملاقات متوقع ہے، جہاں مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی لیے دونوں ممالک اس اہم آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بچنے اور عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ دونوں ممالک نے فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ایران بدستور آبنائے ہرمز پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی قائم رکھے ہوئے ہے۔
تازہ سمجھوتہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں موجودہ تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ دونوں ایک دوسرے پر پہلے سے طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔