اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر، مثلاً بیماری، بڑھاپے، کمزوری یا معذوری کی وجہ سے ویل چیئر، الیکٹرک گاڑی، اسکوٹی یا کسی دوسری سواری پر بیٹھ کر سعی کرے، تو اس کی سعی درست ہے اور اس پر نہ دم لازم ہوگا اور نہ کوئی صدقہ، کہ عذر کی حالت میں سواری سے سعی کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص بلا عذرِ شرعی تندرست ہونے کے باوجود سواری، ویل چیئر، الیکٹرک گاڑی، اسکوٹی یا کسی کی گود میں بیٹھ کر سعی کے چار یا اس سے زائد پھیرے کرے، تو اس پر ایک دم لازم ہوگا۔ اور اگر تین یا اس سے کم پھیرے سواری پر کرے، تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقۂ فطر دینا واجب ہوگا۔ اور اگر اعادہ کرتے ہوئے پیدل سعی کر لے تو دم اور صدقہ ساقط ہو جائے گا۔
سوال: اگر کوئی شخص کسی معذور کو ویل چیئر یا کسی دوسری سواری پر بٹھا کر سعی کرائے، تو کیا سعی کرانے والے کی اپنی سعی بھی ادا ہو جائے گی؟
جواب:اگر کسی شخص نے کسی معذور کو ویل چیئر یا کسی دوسری سواری پر بٹھا کر سعی کرائی اور خود اپنی سعی کی مستقل نیت نہ بھی کی ہو، تب بھی سعی کرانے والے کی اپنی سعی ادا ہو جائے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ طواف کے برخلاف سعی کے لیے مستقل نیت شرط نہیں۔ لہٰذا جب وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کے طریقے پر چلا، تو اس کی اپنی سعی بھی واقع ہو جائے گی، بشرطیکہ سعی کی دیگر شرائط و تقاضے پائے جائیں۔
سوال: اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے کسی چکر کو مکمل کرنے سے پہلے واپس پلٹ آئے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:سعی میں ہر چکر کو صفا اور مروہ کی مقررہ حد تک مکمل کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص صفا سے مروہ یا مروہ سے صفا جاتے ہوئے آخری حد تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس پلٹ آئے، تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ :
اگر اس نے اس چکر کی دو تہائی (2/3) یا اس سے زیادہ مسافت طے کر لی تھی، تو اکثر حصہ ادا کرنے کی وجہ سے وہ چکر ادا شمار ہوگا، البتہ باقی ایک تہائی حصہ ترک کرنے کی وجہ سے جتنے چکر اس طرح ادھورے چھوڑے ہوں گے، ہر چکر کے بدلے ایک صدقۂ فطر دینا لازم ہوگا۔اور اگر دو تہائی مسافت سے کم طے کی ہو، تو وہ چکر ادا شمار نہیں ہوگا، لہٰذا اس چکر کو دوبارہ مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
سوال: اگر کسی شخص نے غلطی یا لاعلمی میں سعی مروہ سے شروع کر دی، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:سعی کی ابتدا صفا سے کرنا واجب ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے غلطی، بھول یا لاعلمی کی وجہ سے سعی مروہ سے شروع کر دی، تو مروہ سے صفا تک کیا گیا یہ پہلا پھیرا شمار نہیں ہوگا۔اس صورت میں جب وہ مروہ سے چل کر صفا پہنچے گا اور وہاں سے دوبارہ مروہ کی طرف جائے گا، تو اس کا پہلا چکر شمار ہوگا ۔
سوال: اگر کوئی شخص سعی کے بعض یا تمام پھیرے چھوڑ دے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:اگر کوئی شخص بلا عذرِ شرعی سعی کے چار یا اس سے زائد چکر چھوڑ دے، یا پوری سعی ہی ترک کر دے، تو اس پر حدودِ حرم میں ایک دم واجب ہوگا۔ البتہ جب تک مکہ مکرمہ میں موجود ہو، اس پر واجب ہے کہ سعی ادا کر لے۔
اور اگر اس نے تین یا اس سے کم چکر چھوڑے ہوں، تو ہر چھوڑے ہوئے چکر کے بدلے ایک صدقۂ فطر دینا لازم ہوگا۔البتہ اگر کسی شخص نے کسی معتبر شرعی عذر، مثلاً بیماری، شدید کمزوری یا اسی طرح کی کسی مجبوری کے سبب سعی ترک کی، تو اس پر دم لازم نہیں ہوگا۔
سوال: کیا طواف اور سعی کے پھیرے لگاتار کرنا ضروری ہے؟ اگر درمیان میں وقفہ ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:سعی کے پھیرے پے درپے کرنا سنّت ہے، اور بلا عذر درمیان میں فاصلہ کرنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر پیش آجائے، مثلاً وضو کرنا ہو، جماعت کھڑی ہو جائے، جنازہ آ جائے، پیشاب یا پاخانہ کی حاجت ہو، یا تھکاوٹ محسوس ہو، تو اس صورت میں وقفہ کرنا جائز ہے۔البتہ پھر جہاں سے سعی چھوڑی تھی وہیں سے دوبارہ شروع کرے، اور اگر وقفہ طویل ہو جائے تو ایسی صورت میں از سرِ نو سعی کرنا مستحب ہے۔
از قلم:محمد شاہد رضا مصباحی ؛ دارالافتاء جامعۃ المصطفیٰ،ہسلہ،بگودر،گریڈیہ(جھارکھنڈ)