تمل ناڈو کے ویلور شہر میں جمعرات کی رات ایک زیرِ تعمیر چرچ کی چھت گرنے سے 3 مزدور ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب چھت کے سلیب پر کنکریٹ ڈالا جا رہا تھا۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کاروائی شروع کردی گئی۔ فائر ڈپارٹمنٹ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF)، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے ملبے میں پھنسے مزدوروں کو نکالا۔ زخمی مزدوروں کو ایمبولینس کے ذریعے ویلور گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال، کرسچن میڈیکل کالج ہسپتال اور پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے چتور کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
کنکریٹ ڈالتے وقت سلیب گر گیا
پولیس کے مطابق یہ حادثہ کاٹپاڑی کے قریب منڈی کرشنا پورم میں چرچ آف ساؤتھ انڈیا کی زیرِ تعمیر عمارت میں پیش آیا۔ مزدور چھت پر کنکریٹ ڈال رہے تھے کہ اچانک سلیب گر گیا۔ سلیب کے ساتھ اسے سہارا دینے والا ڈھانچہ بھی گر گیا اور کئی مزدور کنکریٹ، اینٹوں اور تعمیراتی سامان کے ملبے تلے دب گئے۔ پولیس افسر کے مطابق تقریباً 20 فٹ اونچا اسٹیل کا ڈھانچہ اور سہارا دینے والا فریم اچانک گر گیا۔ حادثے میں 3 مزدوروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد کی شناخت یہ ہے:
جان، عمر 39 سال بنگلورو کا رہنے والا اور بلڈنگ کنٹریکٹر تھا۔
ایمانوئل، عمر 45 سال آندھرا پردیش کا رہنے والا یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور تھا۔
سیموئل، عمر 45 سال آندھرا پردیش کا رہنے والا یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور تھا۔
NDRF اور فائر ٹیموں نے امدادی کاروائی کی
حادثے کی اطلاع ملتے ہی اراکونم سے' NDRF' کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ 'NDRF' نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور فائر سروس کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر ملبے میں پھنسے مزدوروں کو تلاش کرنے اور انہیں نکالنے کا کام کیا۔ امدادی کاروائی کی نگرانی ویلور کی ڈسٹرکٹ کلکٹر پی ایس لیلا الیکس کر رہی تھیں۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر نے بتایا کہ زخمی مزدوروں میں سے کم از کم 8 کی حالت مستحکم ہے۔
تعمیراتی کام کی تحقیقات کی ہدایت
ضلعی انتظامیہ نے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ ایک کمیٹی یہ معلوم کرے گی کہ عمارت کا ڈھانچہ کیوں گرا اور کیا تعمیر کے دوران حفاظتی اقدامات پر مناسب طریقے سے عمل کیا گیا تھا۔ حکام یہ بھی جانچ کریں گے کہ کیا بلڈر نے چرچ کی تعمیر کے لیے تمام ضروری منظوری اور تعمیراتی اجازت نامے حاصل کیے تھے۔ تحقیقات میں عمارت کے ڈھانچے کی مضبوطی، کنکریٹ ڈالتے وقت استعمال ہونے والے سہارا دینے والے ڈھانچے اور تعمیراتی حفاظتی قوانین کی پابندی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔