امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کردیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) مستقبل میں انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے یا انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ جمعرات کو ڈیلاس سے روانگی کے وقت صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا انہیں خدشہ ہے کہ اے آئی کی وجہ سے انسان ختم ہوسکتے ہیں؟ ٹرمپ نے جواب دیا، "نہیں، مجھے کوئی تشویش نہیں۔" ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اصل تشویش یہ ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین سے پیچھے نہ رہ جائے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ اے آئی کے میدان میں برتری حاصل نہیں کرتا تو ملک ایک مشکل صورتحال میں پہنچ سکتا ہے۔
اے آئی کے خطرات پر نئی بحث
اے آئی کی حفاظت اور اس کے ممکنہ خطرات پر یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب ایک محقق نے اے آئی کمپنی 'Anthropic' سے استعفیٰ دے دیا اور کمپنیوں کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے۔ جیکب کوکسن نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ تین سال کے دوران 'Anthropic' اور 'OpenAI' دونوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ اے آئی کمپنیاں ایسے ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ میں ہیں جو خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کوکسن نے خبردار کیا کہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز بہت زیادہ طاقتور ہوسکتے ہیں اور سائبر سکیورٹی، مختلف شعبوں اور وسائل تک رسائی جیسے معاملات میں بڑی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اے آئی تیار کرنے والی کچھ ٹیمیں اس امکان کو سنجیدگی سے لیتی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے آخر تک انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
اے آئی ماہرین میں تشویش
'Anthropic' کے ایک موجودہ ملازم ایوان ہیوبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کے خیال میں اگلی دہائی کے دوران اے آئی سے انسانی نسل کو شدید خطرہ لاحق ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب کچھ اے آئی کمپنیوں کے سربراہوں نے بھی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 'OpenAI' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے اس ہفتے کمپنی کے ملازمین سے کہا کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی ترقی کو کچھ حد تک سست کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسری کمپنیاں بھی اسی طرح کے اقدامات کریں گی۔ خطرہ صرف "اے آئی انسانوں کو مار دے گی" تک محدود نہیں: ماہرین جن خطرات پر بات کر رہے ہیں ان میں اے آئی کا انسانی کنٹرول سے باہر ہونا، غلط استعمال، سائبر حملوں میں مدد اور طاقتور اے آئی سسٹمز کا غیر متوقع رویہ بھی شامل ہے۔
Anthropic کا مؤقف:
'Anthropic' نے کہا ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی اور بیالوجی جیسے خطرناک شعبوں میں اپنے ماڈلز کی صلاحیتوں کی مسلسل جانچ جاری رکھے گی اور اے آئی کی رفتار اور محفوظ استعمال کے حوالے سے انڈسٹری کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہے
امریکی قانون سازوں کا ردِعمل
رپورٹ کے مطابق، کوکسن کے خدشات کے بعد امریکہ میں کئی قانون سازوں نے اے آئی کے لیے مزید سخت قوانین اور نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں آزادانہ طور پر اے آئی سسٹمز کے آڈٹ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔