Friday, September 11, 2026 | 27 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • کیجول ڈیلی ویجرز فورم کا حکومت کو دوٹوک انتباہ، پانی روکنے کاعندیہ

کیجول ڈیلی ویجرز فورم کا حکومت کو دوٹوک انتباہ، پانی روکنے کاعندیہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 11, 2026 IST

کیجول ڈیلی ویجرز فورم کا حکومت کو دوٹوک انتباہ، پانی روکنے کاعندیہ
جموں و کشمیر کیجول ڈیلی ویجرز فورم (JKCDF) نے جمعہ کو سری نگر کے شیرِ کشمیر پارک میں پرامن احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے حکومت سے کیجول اور دیہاڑی دار ملازمین کے دیرینہ مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کی قیادت فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن ہے اور اس کا مقصد حکومت کو ملازمین کے مسائل اور شکایات کی یاد دہانی کرانا ہے۔ سجاد احمد پرے نے کہا کہ ملازمین حکومت سے اپنے مسائل حل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں فوری مداخلت کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل حل نہ کیے تو ملازمین سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
 
پرے نے کہا، ”ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں پانی کی فراہمی روکنے کا اعلان کرنے پر مجبور نہ کرے۔ جس دن ایسا ہوا، یہاں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں بہے گا۔“ انہوں نے کہا کہ فورم کیجول اور دیہاڑی دار ملازمین کے مسائل کو پرامن اور جمہوری طریقے سے اٹھاتا رہے گا۔ فورم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملازمین کی شکایات کو سنجیدگی سے لے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
 

گزشتہ روز بھی ہڑتال

 جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین نے 9 ستمبر کو اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کی تھی۔ 10 ستمبر کو ہڑتال کا دوسرا دن تھا اور مختلف اضلاع، بلاکس اور فیلڈ سطح کے صحت مراکز میں ملازمین نے احتجاج جاری رکھا۔ ملازمین کے اہم مطالبات میں ملازمت کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی، تنخواہوں میں نظرِ ثانی اور دیگر ریاستوں کے 'NHM' ملازمین کے برابر تنخواہ، ریٹائرمنٹ فوائد اور سماجی تحفظ شامل ہیں۔ انہوں نے EPF، ESI، انشورنس کوریج اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مدد جیسے فوائد دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
 
'NHM' ملازمین کی ایسوسی ایشن کے مطابق جموں و کشمیر میں 12 ہزار سے زیادہ ملازمین 'NHM' کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی عرصے سے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھتے آ رہے ہیں، لیکن انہیں عملی اقدامات کے بجائے مسلسل یقین دہانیاں ہی ملتی رہی ہیں۔
 
ملازمین کے مطابق 5 ستمبر کو حکومت کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود کوئی ٹھوس جواب نہ ملنے پر 72 گھنٹے کی ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ احتجاج میں 'NHM' کے مختلف پروگراموں سے وابستہ ملازمین، جن میں نیشنل ٹی بی ایلیمینیشن پروگرام (NTEP) کے کارکن بھی شامل ہیں،احتجاج میں حصہ لیا۔
 
10 ستمبر کو بعض علاقوں میں ہڑتال کے باعث صحت مراکز کی معمول کی خدمات بھی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سانبہ میں ضلع اسپتال سمیت بعض صحت مراکز میں خدمات متاثر ہونے کی خبر سامنے آئی۔