آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی سابقہ منیجر دیشا سالیان کی موت کے معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی (CBI) کی جانب سے پیر کو ایف آئی آر درج کی گئی ۔ ایف آئی آر میں مہاراشٹرا کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے، اداکار ڈینو موریا اور ریا چکروتی سمیت کئی افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں قتل، اجتماعی عصمت دری، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے اور غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے تقریباً دو ہفتے قبل دیشا سالیان کی موت کے معاملے کی تحقیقات مرکزی ایجنسی کے حوالے کرنے کے حکم کے بعد سامنے آئی ہے۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اْس وقت کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، جو آدتیہ ٹھاکرے کے والد ہیں، اور دیگر افراد نے مبینہ سازش اور اس کے بعد معاملے کو چھپانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایف آئی آر میں متعلقہ سرکاری ملازمین اور پولیس افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کی بات کہی گئی ہے۔ ان پر کیس سے متعلق کاغذات، فائلوں اور دیگر سرکاری ریکارڈ کو ضائع یا دبانے، سرکاری ریکارڈ میں مبینہ جعل سازی اور ملزمین کو بچانے کے لیے سرکاری وسائل، افرادی قوت اور پولیس مشینری کے مبینہ غلط استعمال جیسے الزامات کی تحقیقات کا ذکر ہے۔
سی بی آئی نے ایف آئی آر میں آدتیہ ٹھاکرے، ڈینو موریا، سورج پنچولی، ریا چکروتی اور دیشا سالیان کے تاخیر سے کیے گئے پوسٹ مارٹم سے متعلق ڈاکٹروں اور عملے کو بھی ان افراد میں شامل کیا ہے جن کے کردار کی تحقیقات ضروری قرار دی گئی ہیں۔ اس سے قبل مرکزی ایجنسی نے پولیس سے دیشا سالیان کی موت سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ فراہم کرنے کو کہا تھا تاکہ تحقیقات آگے بڑھائی جا سکیں۔
دیشا سالیان 8 جون 2020 کو ممبئی کے مالاد علاقے میں واقع ایک رہائشی عمارت کی 14ویں منزل سے گرنے کے بعد ہلاک ہوئی تھیں۔ یہ واقعہ سوشانت سنگھ راجپوت کی باندرہ میں واقع رہائش گاہ پر موت سے چند روز قبل پیش آیا تھا۔ اس وقت ممبئی پولیس نے دیشا کی موت کے معاملے میں حادثاتی موت (ایکسیڈینٹل ڈیتھ رپورٹ) (ADR) درج کی تھی۔
گزشتہ ہفتے دیشا کے والد ستیش سالیان نے اپنی بیٹی کی موت سے متعلق سی بی آئی تحقیقات کے سلسلے میں ایجنسی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، ان کے بیٹے اور شیوسینا (UBT) رہنما آدتیہ ٹھاکرے سمیت کئی افراد نے مبینہ سازش اور بعد میں معاملے کو چھپانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بمبئی ہائی کورٹ نے 2 ستمبر کو دیشا سالیان کے والد کی درخواست پر سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ درخواست میں جون 2020 میں دیشا کی موت کی پولیس تحقیقات میں مبینہ کوتاہیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔
عدالت نے ممبئی پولیس کو چھ سال تک ایف آئی آر درج نہ کرنے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس کی تحقیقات ’’جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کرتی ہیں‘‘ اور اس میں ’’واضح تضادات‘‘ موجود ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ دیشا کی موت کے چھ سال بعد بھی ان کے اہل خانہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ایکسیڈینٹل ڈیتھ رپورٹ (ADR) کی نقول فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بعد دیشا سالیان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے والد ستیش سالیان نے گزشتہ سال بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔