جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا 10 روزہ اجلاس،21 ستمبر کو شروع ہو رہا ہے۔ اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکمران جماعت کی جانب سے انتخابی وعدے پورے نہ کرنے جیسے مسائل پر عمرعبداللہ حکومت کو گھیرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اپوزیشن لیڈرسنیل شرما نےعمرعبد اللہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہے گی وہ جلد بکھر جائے گی۔ سنیل شرما نے روزگار کے وعدوں کی عدم تکمیل کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل اور ملازمین کے مطالبات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔جنہیں بی جے پی اسمبلی میں بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔
بی جےپی کا منصوبہ
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی نےالزام لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے بتایا، "ہم اسمبلی میں عوامی مسائل اٹھائیں گے۔ آؤٹ سورسنگ کا گھوٹالہ ہوا ہے، بدعنوانی بلا روک ٹوک جاری ہے، اور پنچایت و شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔"ٹھاکر نے کہا کہ ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی حکومت کو 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے ان وعدوں کی یاد دلائیں گے جو پورے نہیں کیے گئے۔ ٹھاکر نے کہا، "لوگوں سے 200 یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انتخابات کے بعد ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔"
پی ڈی پی کی حکمت عملی
پلوامہ سے پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی بے روزگاری، آؤٹ سورسنگ، ریزرویشن کی غیر متوازن پالیسی اور سرکاری ملازمت میں ڈیلی ویجرز (یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں) کو مستقل کرنے کے معاملات پر توجہ مرکوز کرے گی۔ پارہ نے کہا، "اجلاس کا دورانیہ مختصر ہے، اور ہم زیادہ سے زیادہ عوامی مسائل اٹھانے کی کوشش کریں گے، خاص طور پر وہ انتخابی وعدے جو نیشنل کانفرنس نے حکمرانی اور سیاسی محاذوں پر کیے تھے۔"
عوامی مسائل اہم: این سی
نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ ان کی پارٹی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرے گی۔ ڈار نے کہا، "عوام کے مسائل ہمارے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے سب کچھ کر لیا ہے، لیکن ہم یقیناً انہیں پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔"انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ اپوزیشن جماعت قانون ساز اسمبلی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گی اور ہنگامہ آرائی نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا، "پارلیمانی جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن عوامی مسائل پر سوالات پوچھے اور حکومت جوابدہ ہو۔ ہم خلوص نیت سے اپنا کردار ادا کریں گے۔
21ستمبرسے اجلاس کا ہوگا آغاز
قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کردہ عارضی کیلنڈر کے مطابق، اجلاس کا آغاز 21 ستمبر کو تعزیتی ریفرنسز (مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے) سے ہوگا، جس کے بعد اگلے دن سرکاری امور نمٹائے جائیں گے۔ایوان 24 ستمبر کو نجی اراکین کے بلوں پر بحث کرے گا، اور اس کے اگلے دن نجی اراکین کی قراردادوں پر غور کیا جائے گا۔ 28 ستمبر کو ایوان میں نجی اراکین کے بلوں پر دوبارہ بحث ہوگی، جس کے بعد 29 اور 30 ستمبر کو حکومتی امور نمٹائے جائیں گے۔
این سی کےترجمان تنویر صادق کا بیان
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے آج کہا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں امید ہے کہ حزبِ اختلاف عوامی بہبود کے مسائل اجاگر کرے گی، نہ کہ اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈالے گی۔ منصف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے برکس اِجلاس کو مثبت پیش رفتوں اور خوش آئند اقدام قرار دیا۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اجلاس میں جموں و کشمیر کا ذکر ہوا ہے تو ریاست کے درجے کی بحالی کا بھی لازماً ذکر ہونا چاہیے تھا۔