Tuesday, September 15, 2026 | 01 ربيع الثاني 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • مدینہ منورہ میں 110 ملین ٹن، یورینیم کا ذخیرہ دریافت

مدینہ منورہ میں 110 ملین ٹن، یورینیم کا ذخیرہ دریافت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 14, 2026 IST

مدینہ منورہ میں 110 ملین ٹن، یورینیم کا ذخیرہ دریافت
سعودی عرب نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ملک کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ملک کے مدینہ کے علاقے میں تقریباً 110 ملین ٹن یورینیم ایسک کے ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف پیر کو ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی 70ویں جنرل کانفرنس میں کیا۔
 
 سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے مدینہ کے علاقے میں ایک اندازے کے مطابق 110 ملین ٹن نایاب زمینی معدنیات اور یورینیم ایسک دریافت کیا ہے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی جنرل کانفرنس کے 70ویں ریگولر سیشن میں منظر عام پر آنے والی اس تلاش میں جبل سید کے مقام پر کی جانے والی ریسرچ اور ارضیاتی مطالعات کی بنیاد پر یورینیم کی امید افزا ارتکاز کے ساتھ نایاب زمینی عناصر کے اعلیٰ ارتکاز بھی شامل ہیں۔
 
یہ انکشاف واشنگٹن اور ریاض نے اپنے سول جوہری تعاون کو باضابطہ کرنے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس میں 22 جولائی کو امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ۔امریکی محکمہ توانائی نے کہا کہ یہ معاہدے کئی دہائیوں پر محیط، اربوں ڈالر کی شراکت کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور امریکی کمپنیوں کو مملکت کے سویلین جوہری توانائی کے پروگرام تک زیادہ رسائی فراہم کرتے ہیں۔
 
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی جنرل کانفرنس میں کہا کہ "مدینہ میں جبل سید پراجیکٹ کی تلاش اور ارضیاتی مطالعات سے تقریباً 110 ملین ٹن ایسک کے تخمینے کے وسائل کا انکشاف ہوا ہے جس میں نایاب زمینی معدنیات، خاص طور پر بھاری عناصر کے ساتھ ساتھ یورینیم کی امید افزا ارتکاز بھی ہے۔"
 
وزیر نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نومبر 2025 کے دورہ امریکہ کے بعد اس دباؤ میں تیزی آئی ہے، جب دونوں ممالک نے اہم معدنیات اور سپلائی چینز پر تعاون کو گہرا کیا، بشمول سعودی ریاستی کان کن معدن اور امریکی فرم ایم پی میٹریلز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے۔
 
اس سفر نے اہم معدنیات، دھاتوں اور یورینیم پر تعاون کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک تیار کیا، جس کے تحت امریکی محکمہ دفاع نے مملکت میں ایک نئے نایاب ارتھ پروسیسنگ پلانٹ کے 49 فیصد کی مالی اعانت پر اتفاق کیا، جس میں ماڈن کے پاس MP میٹریلز کے ساتھ 51 فیصد حصص کا کنٹرول ہے، جو کہ اس وقت صرف امریکی زمین کی نایاب پروسیسنگ کے عمل کو چلاتا ہے۔
 
سعودی وزیر کے مطابق اہم معدنیات اور سپلائی چین کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعاون میں تیزی نومبر 2025 میں ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ امریکہ کے بعد آئی۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے اہم معدنیات اور سپلائی چین کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ اس تعاون میں سعودی سرکاری کان کنی کمپنی معادن (Maaden) اور امریکی کمپنی ایم پی میٹیریلز (MP Materials) کے درمیان شراکت داری بھی شامل ہے۔
 
اس دورے کے نتیجے میں اہم معدنیات، دھاتوں اور یورینیم کے حوالے سے تعاون کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا۔ اس کے تحت امریکی محکمہ دفاع نے سعودی عرب میں قائم کیے جانے والے ایک نئے نایاب زمینی عناصرکے پروسیسنگ پلانٹ کی 49 فیصد مالی معاونت پر اتفاق کیا ہے۔ باقی 51 فیصد کنٹرولنگ حصص معادن کے پاس ہوں گے، جبکہ امریکی کمپنی ایم پی میٹیریلز بھی اس منصوبے میں شریک ہوگی۔ یہ کمپنی اس وقت امریکا کی واحد نایاب زمینی معدنیات کی کان اور پروسیسنگ پلانٹ چلا رہی ہے۔
 
مدینہ ریجن میں جدہ سے تقریباً 350 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع جبل سید پہلے ہی دنیا کے قیمتی نایاب زمینی معدنیاتی ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے ایک تجزیے کے مطابق، جو سعودی وزارت صنعت و معدنی وسائل اور سرکاری کان کنی کمپنی معادن کے فراہم کردہ تخمینوں پر مبنی ہے، جبل سید کے ذخائر دنیا میں چوتھے نمبر پر ہونے کا امکان ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق یہاں تقریباً 5 لاکھ 52 ہزار ٹن بھاری نایاب زمینی عناصر، جن میں ڈیسپروسیم اور ٹربیئم شامل ہیں، جبکہ مزید 3 لاکھ 55 ہزار ٹن ہلکے نایاب زمینی عناصر موجود ہونے کا اندازہ ہے۔ ان میں نیوڈیمیم اور پراسیوڈیمیم جیسے اہم عناصر شامل ہیں۔اسی تجزیے کے مطابق جبل سید میں تقریباً 31 ہزار ٹن یورینیم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ CSIS کا کہنا ہے کہ نایاب زمینی عناصر اور یورینیم کے اس امتزاج سے سعودی عرب کو اپنا جوہری ایندھن سائیکل تیار کرنے کی منفرد صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں امریکا کو معدنی مواد برآمد کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
 
دوسری جانب سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نومبر 2025 تک سعودی عرب میں دریافت کیے گئے نایاب زمینی عناصر کے ذخائر کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جو 2018 کے مقابلے میں 90 فیصد زیادہ ہے۔سعودی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات میں نایاب زمینی معدنیات کے دو ایسے بڑے علاقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تلاش کا عمل جدید مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ ان علاقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 64 کروڑ 40 لاکھ ٹن معدنی وسائل موجود ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔