اتر پردیش کے کیرانہ لوک سبھا حلقے سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو الہ آباد ہائی کورٹ سے عبوری راحت ملی ہے۔ عدالت نے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق کیس میں ٹرائل کورٹ کی جاری تمام کارروائیوں پر آئندہ احکامات تک روک لگا دی ہے۔ یہ معاملہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے متعلق ہے۔ اقرا حسن نے اس انتخاب میں سماج وادی پارٹی کی امیدوار کے طور پر کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
مقدمہ شاملی ضلع کے کاندھلا پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹر مکیش دنکر کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں بھارتی تعزیرات ہند (IPC) کی دفعہ 188 اور 171-H کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔بعد میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرکے ٹرائل کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی۔ چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ٹرائل کورٹ نے اقرا حسن کو سمن جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ایس پی رکن پارلیمنٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
اقرا حسن کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کرکے مقدمے سے متعلق ٹرائل کورٹ میں جاری کارروائی کو ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ معاملے کی سماعت جسٹس وکرم ڈی چوہان کی سربراہی والی سنگل جج بنچ نے کی۔ اقرا حسن کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ عمران اللہ اور محمد خالد نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ میں جاری کارروائی پر آئندہ احکامات تک عبوری روک لگا دی۔ اس حکم کے بعد فی الحال اقرا حسن کے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکے گی۔
اقرا حسن 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں۔ وہ سماج وادی پارٹی کے نوجوان چہروں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے تین مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔اقرا حسن نے دہلی کے لیڈی شری رام کالج سے بی اے کی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد دہلی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔اب اس معاملے میں اگلی سماعت اور ہائی کورٹ کے آئندہ حکم کا انتظار ہے۔ عبوری روک کے بعد مقدمے کی آئندہ قانونی سمت عدالت کی مزید کارروائی سے واضح ہوگی۔