کیرالہ کے تھریسور میں شدید ٹریفک جام کے بعد مرکزی وزیر اور تھریسور کے رکن پارلیمنٹ سریش گوپی نے پالیکارا ٹول پلازہ کے تمام 12 گیٹ کھولنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ہفتہ کے روز نیشنل ہائی وے 544 پر پیش آیا، جہاں ٹول پلازہ کے دونوں جانب تقریباً دو کلومیٹر تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سریش گوپی تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر تھریسور سے ایرناکولم کی جانب سفر کر رہے تھے۔ جب ان کا قافلہ مانوتھی-انگمالی روڈ کے قریب پہنچا تو انہیں بھی شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے ٹریفک کے درمیان ان کے قافلے کے لیے راستہ بنایا، جس کے بعد وہ آگے بڑھ سکے۔
گوپی نے بتایا کہ ٹول پلازہ کے قریب گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھ کر انہیں مداخلت کرنا ضروری محسوس ہوا۔ ان کے مطابق قانونی رہنما خطوط اور عدالتی ہدایات موجود ہیں جن کے تحت اگر گاڑیاں طویل قطاروں میں پھنس جائیں تو ٹول گیٹ کھولے جا سکتے ہیں تاکہ ٹریفک کو آگے بڑھایا جا سکے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اس طرح نہ صرف مسافروں کو راحت ملتی ہے بلکہ گاڑیوں کے طویل وقت تک انجن چلتے رہنے سے ایندھن کے ضیاع اور غیر ضروری آلودگی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
ٹول عملے کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے
سریش گوپی نے ٹول پلازہ کے عملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین اپنی ذمہ داری کے مطابق ٹول وصول کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ٹول عملے کو براہ راست ٹریفک جام کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا، تاہم گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے پر ٹول وصول کرنے کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور مقامی حکام کو مشورہ دیا کہ شدید ٹریفک والے دنوں میں پولیس کے ساتھ مل کر ٹول پلازہ کی صورتحال پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کریں۔
گوپی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جب ان کا قافلہ ٹریفک سے گزرا تو کچھ موٹر سوار اس صورتحال سے ناراض نظر آئے۔ تاہم ان کے مطابق بعد میں ٹول گیٹ کھولنے سے دونوں جانب ٹریفک کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔پولیس کے مطابق تقریباً 30 منٹ کے اندر دونوں سمتوں میں ٹریفک جام کافی حد تک کم ہوگیا، جس کے بعد وزیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر ٹول پلازوں پر ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی صورتحال میں گیٹ کھولنے اور مقامی انتظامیہ و پولیس کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر بحث شروع ہوگئی ہے۔