آسٹریلیا کے اسکولز میں طلبہ کے نامناسب رویے کی وجہ سے پڑھائی کا تقریباً ایک تہائی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ ایک نئے سروے کے مطابق، کلاس روم میں طلبہ کی باتوں، شور اور دیگر خلل کی وجہ سے طلبہ سالانہ تقریباً 12 ہفتوں کی پڑھائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
یہ سروے ’سینٹر فار انڈیپنڈنٹ اسٹڈیز‘ (CIS) نے 377 اساتذہ سے کیا۔ سروے میں شامل اساتذہ نے بتایا کہ 30 منٹ کے ایک سبق میں اوسطاً 9 منٹ طلبہ کے نامناسب رویے سے نمٹنے میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ 'CIS' کے تعلیمی امور کے ڈائریکٹر اور سابق استاد بلیس جوزف نے کہا کہ تدریسی وقت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 40 فیصد اساتذہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران زیادہ تر یا تمام کلاسوں میں طلبہ کے نامناسب رویے کی وجہ سے پڑھائی متاثر ہوئی۔ 57 فیصد اساتذہ نے بتایا کہ طلبہ اکثر ایسے وقت میں بات کرتے ہیں جب انہیں خاموش رہنا چاہیے، جبکہ 45 فیصد نے طلبہ کے بار بار کلاس میں آواز لگانے کی شکایت کی۔
خواتین اساتذہ نے بھی طلبہ کے نامناسب رویے کی وجہ سے زیادہ تدریسی وقت ضائع ہونے کی شکایت کی۔ سروے کے مطابق، اس رویے کا اساتذہ کی صحت اور ذہنی سکون پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ تقریباً 10 فیصد اساتذہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے طلبہ کے رویے نے ان کی صحت اور ذہنی سکون پر نمایاں منفی اثر ڈالا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا کے قومی تعلیمی ٹیسٹ ’NAPLAN‘ کے نتائج میں بھی طلبہ کی کارکردگی کے حوالے سے تشویش سامنے آئی ہے۔ نتائج کے مطابق تقریباً ایک تہائی آسٹریلوی طلبہ پڑھنے اور ریاضی کی مہارتوں میں مقررہ معیار پر پورا نہیں اتر رہے۔
رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کے نامناسب رویے سے نمٹنے کے لیے واضح اصول اور بہتر انتظام ضروری ہے، تاکہ اساتذہ کو پڑھانے اور طلبہ کو سیکھنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔
سروے میں 377 پرائمری اور سیکنڈری اسکول اساتذہ شامل تھے۔ یہ سروے 10 سوالات پر مبنی تھا اور برطانیہ میں کیے گئے اسی طرح کے ایک سروے سے تیار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف شدید بدتمیزی کا نہیں ہے۔ زیادہ تر مسئلہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں کا ہے، جیسے کلاس میں باتیں کرنا اور استاد کی بات کے دوران آواز لگانا۔ 57 فیصد اساتذہ نے نامناسب گفتگو جبکہ 45 فیصد نے بار بار آواز لگانے کی شکایت کی۔
تقریباً 40 فیصد اساتذہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ان کی زیادہ تر یا تمام کلاسوں میں طلبہ کے نامناسب رویے سے پڑھائی متاثر ہوئی، جبکہ صرف 3 فیصد نے کہا کہ ان کی کلاسوں میں ایسی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ 82 فیصد اساتذہ نے کہا کہ وہ طلبہ کے نامناسب رویے سے نمٹنے میں خود کو پُراعتماد سمجھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھانے کا کافی وقت ضائع ہو رہا ہے۔
8 ستمبر کو جاری ہونے والے تازہ بین الاقوامی PISA نتائج میں بھی آسٹریلوی کلاس رومز میں شور اور بدنظمی کا مسئلہ سامنے آیا۔ 41 فیصد آسٹریلوی طلبہ نے بتایا کہ کلاس میں اکثر شور اور بدنظمی ہوتی ہے، جبکہ 39 فیصد نے کہا کہ وہ ڈیجیٹل آلات کی وجہ سے کلاس میں توجہ کھو دیتے ہیں۔
ایک نئی رپورٹ میں اس سروے کے دعوے پر کچھ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق 12 ہفتوں کی تعلیم ضائع ہونے کا یہ صرف ایک اندازہ ہے، جو اساتذہ کی بتائی ہوئی معلومات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طلبہ واقعی 12 ہفتے اسکول نہیں گئے۔