بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) کے سینئر قائد ڈاکٹر داسوجو شراون نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) تلنگانہ امور کی انچارج میناکشی نٹراجن سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ تلنگانہ میں مداخلت کریں اور ریاست کو تباہی سے بچائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی موجودہ کانگریس حکومت عوام سے کیے گئے اپنے تمام وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
عوام کے اعتماد کو دھوکہ دینے کا الزام
تلنگانہ کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے BRS رہنما داسوجو شراون نے کہا کہ ریاست کے عوام نے راہول گاندھی کی اپیلوں، ضمانتوں اور انتخابی وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو اقتدار سونپا تھا۔ تاہم، موجودہ قیادت نے عوام کے اس اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے اور اپنے بنیادی وعدوں سے انحراف کیا ہے اور وزیراعلیٰ اپنے وعدے نبھانے میں ناکام رہے۔
ڈاکٹر شراون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:
"میں تلنگانہ کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے راہول گاندھی اور میناکشی نٹراجن سے اپیل کرتا ہوں کہ براہِ کرم تلنگانہ کی صورتحال پر توجہ دیں اور اسے بچائیں۔ عوام نے راہول گاندھی کے نام اور وعدوں پر بھروسہ کر کے جس شخص کو چیف منسٹر کی کرسی پر بٹھایا، وہ چیف منسٹر اپنے فرائض اور وعدے نبھانے میں مکمل طور پر نااہل اور ناکام ثابت ہوئے ہیں۔"
سیاسی حلقوں میں ہلچل
BRS رہنما کی جانب سے براہِ راست راہول گاندھی اور اعلیٰ کانگریس قیادت کو نشانہ بنانے اور چیف منسٹر کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کے بعد ریاست کی سیاسی فضامیں گرمجوشی پیدا ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ کانگریس نے انتخابات کے دوران جو "چھ ضمانتیں" (Six Guarantees) اور دیگر وعدے کیے تھے، ان پر عمل آوری میں حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔