Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • ملزمان کی پریڈ اور سوشل میڈیا ویڈیوز پر سپریم کورٹ کی سختی، نوٹس جاری

ملزمان کی پریڈ اور سوشل میڈیا ویڈیوز پر سپریم کورٹ کی سختی، نوٹس جاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

ملزمان کی پریڈ اور سوشل میڈیا ویڈیوز پر سپریم کورٹ کی سختی، نوٹس جاری
پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد ملزمین کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت  نے مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میٹا (Meta) اور ایکس (X) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ یہ معاملہ درخواست گزار ہیمیندر پٹیل کی جانب سے دائر درخواست کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی ہدایات کے باوجود بعض مقامات پر پولیس گرفتار کیے گئے ملزمین کو رسیوں سے باندھ کر عوام کے سامنے پریڈ کرواتی ہے اور بعد میں ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔
 
ملزمین کے وقار اور منصفانہ ٹرائل کا سوال
 
درخواست گزار کا موقف ہے کہ کسی شخص کی گرفتاری کا مطلب یہ نہیں کہ اسے جرم کا مرتکب قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزم کو قانونی طور پر بے قصور تصور کیا جاتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر نہ صرف ملزمین کی عزت اور شخصی وقار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عوامی سطح پر انہیں پہلے ہی مجرم قرار دینے کا تاثر بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس سے ان کے منصفانہ ٹرائل کے حق پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
 
میٹا اور ایکس کی پالیسیوں پر بھی سوال
 
درخواست میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، ایسے مواد کی روک تھام کے لیے پلیٹ فارمز کی پالیسیوں میں واضح اور مؤثر طریقہ کار ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے مواد کے معاملے میں جو کسی زیر حراست شخص کی تضحیک یا عوامی سطح پر کردار کشی کا باعث بن سکتا ہے۔
 
پہلے بھی ریاستوں کو دی گئی تھی ہدایت
 
اس معاملے پر سپریم کورٹ اس سے قبل بھی سماعت کر چکی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، عدالت نے جنوری میں تمام ریاستوں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب رہنما خطوط تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مارچ میں معاملہ دوبارہ عدالت کے سامنے آنے کے بعد بھی ریاستوں کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد درخواست گزار نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
 
چیف جسٹس نے سوشل میڈیا کو بڑا چیلنج قرار دیا
 
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے سینئر وکیل گوپال سنکرانارائنن نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض ہائی کورٹس نے اس حوالے سے رہنما خطوط جاری کیے ہیں، لیکن ملک بھر میں یکساں اصولوں کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے بھی اس معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے ریگولیٹ کرنا ایک اہم اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔اب مرکز، ریاستی حکومتوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے جواب کے بعد یہ واضح ہوگا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں ملک بھر کے لیے کس طرح کے رہنما خطوط یا احکامات جاری کرتی ہے۔