ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کی منگل کو مقررہ سالانہ جنرل میٹنگ (AGM) مطلوبہ کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی کر دی گئی۔ کمپنی کی تقریباً ایک صدی پر محیط تاریخ میں یہ پہلا موقع بتایا جا رہا ہے جب کورم کی کمی کے باعث AGM کو آگے بڑھانا پڑا۔ میٹنگ ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر آڈیو ویژول ذرائع کے ذریعے دوپہر 2:30 بجے شروع ہونی تھی، لیکن قانونی طور پر مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری نہ ہونے کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
کورم کیوں پورا نہیں ہوا؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق، سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ (SRTT) اور سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ کی جانب سے مشترکہ نمائندے کی نامزدگی سے متعلق ریگولیٹری پابندیوں کے باعث پیدا ہوا۔ مہاراشٹر کے چیریٹی کمشنر کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے SRTT فی الحال اپنا مشترکہ نمائندہ نامزد نہیں کر پا رہا۔ ٹاٹا سنز کے Articles of Association کے تحت قانونی کورم کے لیے کم از کم پانچ اراکین کی موجودگی ضروری ہے، جس میں مذکورہ مشترکہ نمائندے کی موجودگی بھی شامل ہے۔چنانچہ نمائندے کی عدم موجودگی نے میٹنگ کے لیے مطلوبہ کورم کو نامکمل کر دیا اور AGM ملتوی کرنا پڑی۔
این چندر شیکھرن کا استعفیٰ بھی سامنے آیا
اسی دوران ٹاٹا سنز میں قیادت سے متعلق بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ این چندر شیکھرن نے 12 اگست کو ٹاٹا سنز کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم وہ اگلے سال فروری تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ چندر شیکھرن 2017 سے ٹاٹا سنز کی قیادت کر رہے ہیں۔ رواں سال فروری میں بورڈ نے ان کی دوبارہ تقرری سے متعلق فیصلہ بھی مؤخر کر دیا تھا۔
ٹاٹا کی تاریخ میں نایاب واقعہ
ٹاٹا سنز کا قیام 1917 میں ہوا تھا اور کمپنی نے اپنی طویل تاریخ میں کئی بڑے کارپوریٹ تنازعات اور چیلنجز دیکھے ہیں۔ تاہم، موجودہ واقعہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ پہلی بار AGM مطلوبہ کورم نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہوئی ہے۔ کمپنی کے لیے اب اگلا اہم مرحلہ نئی تاریخ پر AGM کا انعقاد اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ ریگولیٹری پابندیاں اور ٹرسٹ سے متعلق موجودہ صورتحال ٹاٹا سنز کی کارپوریٹ گورننس اور فیصلہ سازی پر کس حد تک اثر ڈال سکتی ہے۔