Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • کولہے(ہِپ) اور پارشل نی(گھٹنے) کی جدید سرجری۔ کم تکلیف اور جلد صحت یابی

کولہے(ہِپ) اور پارشل نی(گھٹنے) کی جدید سرجری۔ کم تکلیف اور جلد صحت یابی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

کولہے(ہِپ) اور پارشل نی(گھٹنے) کی جدید سرجری۔ کم تکلیف اور جلد صحت یابی
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Minimal Invasive Hip & Partial Knee Replacement Surgery" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی گفتگو پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر آدرش اناپاریڈی، کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک اینڈ جوائنٹ ریپلیسمنٹ سرجن اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، KIMS-SUNSHINE Hospitals، حیدرآباد نے ہِپ اور گھٹنے کے مسائل، جدید کم چیرا والی سرجری اور مریضوں کے لیے اس کے فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
گفتگو کے دوران ڈاکٹر آدرش نے کہا کہ جوڑوں کا درد اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہا۔ گھٹنوں اور کولہے کے مسائل کی وجہ سے بہت سے لوگ روزمرہ کے معمولات، سیڑھیاں چڑھنے، چلنے پھرنے حتیٰ کہ آرام کے وقت بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ بعض مریض درد کے ساتھ کئی برس گزار دیتے ہیں اور سرجری کے نام سے خوفزدہ ہو کر علاج کو مسلسل ٹالتے رہتے ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ جب گھٹنے یا ہِپ کا جوڑ شدید طور پر خراب ہو جائے اور ادویات، فزیوتھراپی، وزن میں کمی اور دیگر غیر جراحی طریقوں سے مناسب فائدہ نہ ہو تو جوائنٹ ریپلیسمنٹ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم ہر مریض کے لیے مکمل جوائنٹ ریپلیسمنٹ ضروری نہیں ہوتی۔ مناسب مریضوں میں پارشل نی ریپلیسمنٹ ایک متبادل ہوسکتا ہے، جس میں گھٹنے کے صرف متاثرہ حصے کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ صحت مند حصوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
 
ڈاکٹر آدرش نے Minimal Invasive Surgery کے بارے میں بتایا کہ جدید تکنیکوں میں   سرجری کی جگہ ہلکی سےضرب (تھوڑا سا کاٹا)  لگائی جاتی ہے۔ اور سرجری میں خصوصی آلات استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے اردگرد کے نرم ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض مریضوں میں آپریشن کے بعد درد اور خون کا ضیاع کم ہو سکتا ہے اور بحالی کا عمل نسبتاً تیز ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرجری کی تکنیک کا انتخاب مریض کی عمر، بیماری کی شدت، جوڑ کی حالت اور مجموعی صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
 
پارشل گھٹنے کی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اگر بیماری گھٹنے کے صرف ایک حصے تک محدود ہو اور باقی جوڑ نسبتاً صحت مند ہو تو ڈاکٹر اس آپشن پر غور کر سکتے ہیں۔ درست مریض کا انتخاب کامیاب نتائج کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پروگرام میں سرجری کے بعد بحالی کے مرحلے پر بھی بات ہوئی۔ ڈاکٹر آدرش نے بتایا کہ آپریشن کے بعد فزیوتھراپی اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا بہت اہم ہے۔ مریض کو مناسب وقت پر حرکت شروع کرنے، ورزش کرنے اور اپنی روزمرہ سرگرمیوں کی طرف واپس آنے کے لیے طبی ٹیم کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
 
انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ جوڑوں کے درد کو عمر کا لازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ مسلسل درد، چلنے میں دشواری، سیڑھیاں چڑھنے میں تکلیف یا گھٹنے کی حرکت محدود ہونے کی صورت میں آرتھوپیڈک ماہر سے مشورہ لینا بہتر ہے۔ بروقت تشخیص سے کئی مریضوں میں سرجری کی ضرورت کو مؤخر یا بعض حالات میں کم بھی کیا جا سکتا ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر آدرش اناپاریڈی نے کہا کہ جدید جوائنٹ ریپلیسمنٹ سرجری نے ایسے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کی ہے جو طویل عرصے سے درد اور محدود نقل و حرکت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحیح تشخیص، مناسب مریض کا انتخاب، جدید جراحی تکنیک اور آپریشن کے بعد باقاعدہ بحالی، یہ سب مل کر مریض کو دوبارہ زیادہ فعال اور بہتر زندگی کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
 قارئین ڈاکٹرآدرش اناپاریڈی، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور ہیلتھ سے جڑے کسی بھی معاملے پر، دیگر ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔