ہندوستانی حکومت نے میٹا کے ساتھ بات چیت کے دوران واضح کیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، یعنی(Child Sexual Abuse Material) "CSAM"، کے معاملے میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص یا پلیٹ فارم کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ حکومت کے مطابق میٹا اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے غیر قانونی مواد کی نشاندہی اور اسے ہٹانے کے لیے اپنی نگرانی کا نظام مزید سخت کر رہا ہے۔ حکام نے کہا کہ کمپنی بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے معاملے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔
CSAM کیا ہے؟
Child Sexual Abuse Material)"CSAM) "سے مراد بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق ایسا مواد ہے جس میں نابالغ بچوں کو جنسی نوعیت کے مناظر یا استحصال کے لیے دکھایا جاتا ہے۔ ایسا مواد قانوناً سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔
حکومت نے میٹا کو کیا پیغام دیا؟
سرکاری حکام نے میٹا کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا کہ "CSAM" سے متعلق خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو قانونی طور پر دستیاب اس تحفظ کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا جسے عام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے "سیف ہاربر" کہا جاتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی پلیٹ فارم پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد موجود ہو تو صرف یہ کہہ کر پلیٹ فارم اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا کہ یہ مواد صارفین نے پوسٹ کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں اب تک جو بھی کاروائی کی گئی ہے، وہ ہندوستان کے موجودہ قوانین کے مطابق ہی کی گئی ہے۔
ہندوستانی زبانوں اور ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت
حکومت نے میٹا سے کہا ہے کہ وہ مواد کی جانچ کرتے وقت ہندوستان کی مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا خیال رکھے، کیونکہ ملک کے ہر علاقے میں زبان اور معاملات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے مواد کی جانچ کے نظام کو ہندوستانی حالات کے مطابق بہتر بنائیں۔
واٹس ایپ کے صارف نام بھی زیر بحث
حکومت واٹس ایپ پر صارف نام کے استعمال کے معاملے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ مسئلہ صرف واٹس ایپ کا نہیں بلکہ تمام میسجنگ ایپس سے متعلق ہے۔ حکام نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھ رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقصد مواد کو بلا وجہ روکنا نہیں بلکہ ایسے حالات کو روکنا ہے جن سے معاشرے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واٹس ایپ صارف نام کا معاملہ زیادہ سنجیدہ ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ فون نمبر کی جگہ صارف نام رکھنے سے جعلی شناخت، کسی دوسرے شخص کے نام سے اکاؤنٹ بنانے اور آن لائن فراڈ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے اس فیچر کی بھارت میں پیش رفت روکنے اور وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
AI سے بنے مواد پر واضح لیبل لگانے کا مطالبہ
حکومت نے مصنوعی ذہانت یعنی AI سے تیار کیے گئے مواد پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ حکام چاہتے ہیں کہ AI سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز یا دیگر مواد پر واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ مصنوعی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ وہ جو مواد دیکھ رہے ہیں وہ حقیقی ہے یا AI کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس طرح کے واضح لیبل صارفین کو گمراہ کن مواد سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف یہ بھی ہے کہ اگر میٹا کا الگورتھم خود طے کرتا ہے کہ کون سا مواد صارفین تک پہنچے گا تو کمپنی کی ذمہ داری کا سوال مزید اہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بعض حالات میں سیف ہاربر کے قانونی تحفظ پر سوال اٹھایا ہے۔ اگست کے شروع میں میٹا کی طرف سے مواد کی نگرانی میں ہونے والی خامیوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کمپنی نے نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے طریقے میں موجود کچھ خامیوں کو تسلیم کیا تھا۔AI مواد پر واضح نشان لگانے کا مطالبہ بھی اہم اضافہ ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ AI سے بنائی گئی تصویر، ویڈیو یا دیگر مواد کے بارے میں صارف کو صاف طور پر بتایا جائے کہ یہ مصنوعی طور پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں
حکام نے یہ بھی کہا کہ AI سے تیار ہونے والے مواد، غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر نقصان دہ مواد سے متعلق مسائل صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ دنیا کی کئی ممالک میں موجود ہیں۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے، جس میں غیر قانونی مواد کو روکنے کے ساتھ ساتھ صارفین کے حقوق اور ہندوستان کے سماجی و ثقافتی ماحول کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔