Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • یوپی، پنجاب اور گجرات پر بی جے پی کی نظر، تاوڑے، پونیا اور چگ کو ملی اہم ذمہ داری

یوپی، پنجاب اور گجرات پر بی جے پی کی نظر، تاوڑے، پونیا اور چگ کو ملی اہم ذمہ داری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

یوپی، پنجاب اور گجرات پر بی جے پی کی نظر، تاوڑے، پونیا اور چگ کو ملی اہم ذمہ داری
بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2027 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے کئی ریاستوں میں اپنے تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ پارٹی نے اتر پردیش، پنجاب اور گجرات کے لیے نئے ریاستی انچارج مقرر کر دیے ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے منگل کو ان نئی تقرریوں کا اعلان کیا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاستوں میں پارٹی کی سرگرمیوں کو مزید مضبوط کرنا اور انتخابی تیاریوں کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہے۔

ونود تاوڑے کو اتر پردیش کی ذمہ داری

بی جے پی نے مہاراشٹر کے سینئر رہنما ونود تاوڑے کو اتر پردیش کا ریاستی انچارج مقرر کیا ہے۔ ان کے ساتھ جگدیش ایشور بھائی پٹیل کو شریک انچارج کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ریاست ہے، کیونکہ یہاں اسمبلی کی 403 نشستیں ہیں۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں ریاست میں بی جے پی کو ایک بار پھر بڑا انتخابی امتحان درپیش ہوگا۔

پنجاب میں ستیش پونیا کو ذمہ داری

راجستھان کے سابق بی جے پی صدر ستیش پونیا کو پنجاب کا ریاستی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں اسمبلی کی 117 نشستیں ہیں۔ بی جے پی اس ریاست میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے اور آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ترون چگ کو گجرات کا انچارج بنایا گیا

بی جے پی نے ترون چگ کو گجرات کا نیا ریاستی انچارج مقرر کیا ہے۔ گجرات میں اسمبلی کی 182 نشستیں ہیں اور یہ ریاست طویل عرصے سے بی جے پی کے مضبوط سیاسی گڑھ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ نئی تقرریوں کے ذریعے پارٹی نے ان تینوں ریاستوں میں آئندہ انتخابی حکمت عملی کی تیاری شروع کردی ہے۔

2027 میں کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات

2027 میں ملک کی کئی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں اتر پردیش، پنجاب، گجرات، اتراکھنڈ، گوا، منی پور اور ہماچل پردیش شامل ہیں۔ اتر پردیش میں 403، پنجاب میں 117 اور گجرات میں 182 اسمبلی نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ اتراکھنڈ میں 70، گوا میں 40، منی پور میں 60 اور ہماچل پردیش میں 68 نشستیں ہیں۔ ان انتخابات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے ابھی سے اپنی تنظیمی تیاریوں کو تیز کرنا شروع کردیا ہے۔

بی جے پی کی قومی ٹیم میں بھی بڑی تبدیلیاں

ریاستی انچارجوں کی تقرری کے ساتھ بی جے پی نے اپنی قومی تنظیم میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو پارٹی کا قومی جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آر ایس ایس سے وابستہ رہنے والے رام مادھو کو قومی نائب صدر بنایا گیا ہے۔ راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کو بھی پارٹی کے نائب صدور میں شامل رکھا گیا ہے۔

نئی قومی ٹیم میں زیادہ تر نئے چہرے

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں مجموعی طور پر 65 عہدیداروں کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں 51 نئے چہرے شامل ہیں۔ ان میں 12 خواتین اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 6 رہنما بھی شامل ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نئی ٹیم میں نوجوان قیادت اور تجربہ کار رہنماؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیوش گوئل کوپارٹی کے مالی امور کے سربراہ بنایا گیا

مرکزی وزیر پیوش گوئل کو بی جے پی کا نیا پارٹی کے مالی امور کے سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس عہدے پر پہلے بھی رہ چکے ہیں اور بعد میں مئی 2014 میں نریندر مودی کی پہلی مرکزی کابینہ میں شامل ہوئے تھے۔

آئی ٹی اور یوتھ ونگ میں بھی تبدیلی

بی جے پی نے پارٹی کے آئی ٹی اور نوجوانوں کے شعبوں میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ امیت مالویہ کی جگہ چھتیس گڑھ کے دیپک مہاسکی کو پارٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسی طرح گجرات کے ہیمانگ جوشی کو بی جے پی یووا مورچہ کا نیا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے لوک سبھا رکن تیجسوی سوریا کی جگہ لی ہے۔

دس سال بعد بڑی تنظیمی تبدیلی

بی جے پی میں یہ بڑی تنظیمی تبدیلی تقریباً دس سال بعد ہوئی ہے۔ اس سے پہلے 2015 میں اس وقت کے پارٹی صدر امیت شاہ کی قیادت میں بڑے پیمانے پر تنظیمی ردوبدل کیا گیا تھا۔ تازہ تبدیلیوں کے بعد اب پارٹی کی نظریں 2027 کے اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش، پنجاب اور گجرات میں مقرر کیے گئے نئے انچارجوں کے سامنے پارٹی "تنظیم" کو مضبوط کرنے اور انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھانے کی اہم ذمہ داری ہوگی۔

دوسرے ریاستی انچارجوں کا اعلان ابھی باقی ہے

پارٹی نے کہا ہے کہ باقی ریاستوں کے انچارج بھی بعد میں مقرر کیے جائیں گے۔ تب تک ان ریاستوں میں موجودہ ذمہ داری کا نظام جاری رہے گا۔

یوپی میں بی جے پی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بڑا چیلنج درپیش ہے

تازہ رپورٹس کے مطابق ونود تاوڑے کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں اپنی 2019 کی کارکردگی کے مقابلے میں نشستیں کھو چکی ہے۔ اسی لیے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے پارٹی کی تنظیم اور کارکنوں کو مضبوط کرنا اہم سمجھا جا رہا ہے۔