Tuesday, August 18, 2026 | 03 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • بہار حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ، طلبہ پر طاقت کے استعمال سے انکار

بہار حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ، طلبہ پر طاقت کے استعمال سے انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

بہار حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ، طلبہ پر طاقت کے استعمال سے انکار
بہارحکومت نے ملک بھر میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ فورس (Excessive Force) کا استعمال کرنے کے تمام الزامات کی سخت تردید کی ہے۔
 
سیوان میں فائرنگ اور پولیس اہلکار کی معطلی
 
حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ، سیوان میں ایک پولیس کانسٹیبل ہجوم میں پھنس گیا تھا، جس نے خود کو بچانے کے لیے AK-47 سے ہوا میں چار راؤنڈ فائر کیے تاہم اس فائرنگ سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ہاتھی چوک کے قریب ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) نے بے قابو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے 9mm پستول سے دو راؤنڈ فائر کیے، جس سے تین مظاہرین معمولی زخمی ہوئے۔ حکومت نے واضح کیا کہ زخمیوں کو AK-47 کی فائرنگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
 
157 پولیس اہلکار زخمی، 500 افراد گرفتار
 
حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر شدید تشدد، پتھراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ریاست بھر میں 157 پولیس اہلکار اور 7 سرکاری ملازمین زخمی ہوئے، جن میں چھپرا کے دو بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (BDO) بھی شامل ہیں۔ پولیس نے 22 جولائی سے 25 جولائی کے درمیان مختلف مقامات پر 69 ایف آئی آر (FIR) درج کی ہیں اور 500 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
 
سپریم کورٹ کی ہدایت پر 222 طلبہ کی ضمانت
 
سپریم کورٹ کی سابقہ ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے، ایسے 222 طلبہ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جن کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، جبکہ 75 نابالغوں (Minors) کو بھی رہا کیا جا چکا ہے۔
 
ڈیٹا کی حفاظت اور شناخت کی راز داری
 
ریاستی حکومت نے عدالت کو مطلع کیا کہ ایڈیشنل ڈی جی پی (ADGP) کو سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے مطابق تمام ویڈیو فوٹیج اور دیگر ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ مظاہرین یا طلبہ کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو عام نہ کیا جائے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر شیئر کیا جائے۔