امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایئر فورس ون طیارے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اسے امریکی انجینئرنگ اور ڈیزائن کا ایک شاندار نمونہ قرار دیا۔ یہ وسیع طیارہ، جو پہلے قطر کی ملکیت تھا، اب امریکی صدر کے سرکاری طیارے کے طور پر عارضی استعمال کیلئے دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔
نئے ایئر فورس ون کے ڈیزائن میں روایتی ہلکے نیلے رنگ کی جگہ ایک جدید شکل دی گئی ہے، جس میں طیارے کے نچلے حصے کو سرخ پٹی کے ساتھ نیوی بلیو رنگ میں رنگا گیا ہے۔ صدارتی نشان طیارے کے بائیں جانب جبکہ عقب میں نمایاں امریکی پرچم آویزاں کیا گیا ہے۔
اینڈریوز ایئر فورس بیس میں تقریب کے دوران ٹرمپ نے طیارے کی کاریگری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ لوگوں کو حیران کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پائلٹس، ڈیزائنرز اور انجینئرز نے اب تک کا بہترین ایئر فورس ون تیار کیا ہے۔ یہ طیارہ اس وقت تک استعمال میں رہے گا جب تک بوئنگ کی جانب سے نیا صدارتی طیارہ تیار نہیں کر لیا جاتا، جس کی آمد 2028 تک متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹگف ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق تکنیکی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت حالیہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کا متوقع دورہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ جلد ہی مذاکراتی عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔