ملک بھر میں عید الاضحیٰ کا تہوار روایتی مذہبی جوش و خروش، عقیدت اور آپسی بھائی چارے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی، اتر پردیش، بہار، آسام اور مغربی بنگال سمیت تمام ریاستوں میں مساجد اور عیدگاہوں میں لوگوں نے نمازِ عید الاضحیٰ کی ادائیگی کی۔بچوں سے لے کر بزرگوں تک، ہر عمر کے لوگوں میں تہوار کو لے کر ایک خاص جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا۔
نماز کے دوران بارگاہِ الٰہی میں ملک کی ترقی، خوشحالی، امن و امان اور آپسی ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی ۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد پیش کی اور کئی مقامات پر ضرورت مندوں میں مٹھائیاں اور کھانے پینے کا سامان بھی تقسیم کیا گیا۔
اتر پردیش اور بہار میں سخت سیکیورٹی:
اتر پردیش کے بڑے شہروں جیسے لکھنؤ، وارانسی، پریاگ راج، میرٹھ اور علی گڑھ میں عیدگاہیں عقیدت مندوں سے کھچا کھچ بھری نظر آئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔مساجد اور حساس مقامات کے باہر پولیس اور پی اے سی (PAC) کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈرون اور سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کے ذریعے کڑی نگرانی کی گئی۔
دوسری طرف، ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ، گیا، بھاگلپور اور کشن گنج سمیت مختلف اضلاع میں پرامن اور خوشگوار ماحول میں نمازِ عید ادا کی گئی۔ نماز کے بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹے اور سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ عید کے موقع پر بازاروں میں بھی کافی چہل پہل دیکھنے کو ملی۔
مغربی بنگال اور آسام میں بھی عید کی رونقیں:
مغربی بنگال کے کولکتہ، مرشد آباد اور مالدہ جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں عید کی رونقیں عروج پر رہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے عیدگاہوں کا رخ کیا اور نماز ادا کی۔
اسی طرح آسام کے گوہاٹی اور دیگر اضلاع میں بھی مسلمانوں نے عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی اور صوبے کی امن و ترقی کے لیے دعائیں مانگیں۔ واضح رہے کہ عید الاضحیٰ اسلام کا ایک انتہائی اہم تہوار ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن مسلم برادری اللہ کی راہ میں قربانی پیش کر کے ایثار، قربانی اور انسانیت کا پیغام دیتے ہیں۔