کرناٹک کی سیاست میں بالآخر وہ بڑا الٹ پھیر ہو گیا جس کا گزشتہ کئی دنوں سے قیاس لگایا جا رہا تھا۔تمام قیاس آرائیوں کے درمیان وزیراعلیٰ سدارامیا نے جمعرات کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ چونکہ ریاست کے گورنر تھاور چند گہلوت اس وقت بنگلورو میں موجود نہیں ہیں، اس لیے سدارامیا نے راج بھون جا کر گورنر کے سکریٹری کو اپنا استعفیٰ سونپا۔
گورنر گہلوت بدھ کی رات تقریباً 10:30 بجے نجی وجوہات کی بنا پر اپنے آبائی شہر اندور (مدھیہ پردیش) کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ استعفیٰ دینے کے بعد سدارامیا نے بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا اور بتایا کہ گورنر شام تک بنگلورو لوٹ آئیں گے، جس کے بعد اگلی آئینی کاروائی شروع ہوگی۔
میں نے وہی کیا جو ہائی کمان نے کہا:سدارامیا
پریس کانفرنس کے دوران سدارامیا نے کنڑ زبان میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا،کانگریس ہائی کمان نے مجھے جو بھی حکم اور ذمہ داری دی، میں نے ہمیشہ اس کا احترام کیا ہے اور اسی فیصلے کے تحت میں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے۔ میں ایک سچا سیاستدان ہوں اور میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ملک کا آئین ہمارا اصل دھرم ہے اور ووٹرز ہمارے لیے بھگوان کی مانند ہیں۔
سی ایم ہاؤس میں بریک فاسٹ میٹنگ اور الوداعی لمحات:
استعفیٰ کے باضابطہ اعلان سے ٹھیک پہلے، جمعرات کی صبح بنگلورو میں وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک اہم 'بریک فاسٹ میٹنگ' (ناشتے کی محفل) کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ میں کرناٹک کابینہ کے تمام وزراء سمیت نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سرجیوالا نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اس الوداعی ملاقات کے دوران انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے؛ سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار نے ایک دوسرے کو گرمجوشی سے گلے لگایا، اور شیوکمار نے سدارامیا کے پیر چھو کر ان کا آشیرواد (دعا) بھی لیا۔ اس میٹنگ کے فوراً بعد سدارامیا کا قافلہ استعفیٰ دینے راج بھون روانہ ہوا۔
ڈی کے شیوکمار ہوں گے نئے وزیر اعلیٰ:
میڈیا رپورٹس اور پارٹی ذرائع کے مطابق، کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار کا ریاست کا اگلا وزیر اعلیٰ بننا طے پا گیا ہے۔ وہ ممکنہ طور پر 30 مئی کو نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے سکتے ہیں۔
دوسری طرف، سدارامیا کے سیاسی مستقبل کو لے کر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سدارامیا کانگریس ہائی کمان کی طرف سے دی جانے والی راجیہ سبھا کی سیٹ قبول کرنے اور مرکز کی سیاست میں جانے کے بالکل خواہشمند نہیں ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت کے سامنے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اگلے 2 سالوں تک صرف ایک عام ممبرِ اسمبلی (MLA) کی حیثیت سے ہی ریاست میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ سدارامیا آج شام ہی دہلی جا سکتے ہیں، جہاں وہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو راجیہ سبھا نہ جانے کے اپنے اس فیصلے سے ذاتی طور پر آگاہ کریں گے۔